یوکرین کا جوش و جذبہ
بمقابلہ
روس کی طاقت
تحریر - نواز سلامت - ڈنمارک

کہتےہیں سمندر کے قریب ایک درخت پر چڑیا نے اپنا گھونسلا بنایا۔ اس گھونسلے میں چڑیا نے انڈے دیئے۔ چڑیا بے تابی سے اپنے بچوں کے اُن انڈوں سے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ ابھی وہ اِسی انتظار میں تھی کہ ایک شام سمندر سے اونچی لہر اٹھی اور اپنے ساتھ گھونسلے اور انڈوں کو بہا لے گئی۔ چڑیا جب واپس آئی تو اُس نے صورتحال کو بھانپ لیا اور مودبانہ طریقے سے پروں کو جھکا کر، آنسوؤں کے ساتھ، سمندر سے التجا کرنے لگی کہ، "غلطی سے یا جیسے بھی، تم نے میرے انڈے لے لئے ہیں۔ براہِ کرم وہ مجھے واپس کر دو"۔
"یہ میری فطرت کے خلاف ہے، ایک بار میں جو چیز لے لوں، واپس نہیں کر سکتا" سمندر نے کہا۔

چڑیا مِنتوں پر مِنتیں کرتی رہی، "وہ میرے انڈے، میرے بچے، میرے خواب اور میرا مستقبل ہیں۔ براہ کرم اُن کو تباہ مت کرنا۔ براہِ مہربانی وہ مجھے واپس کر دو"۔
یہ ساری افراتفری دیکھتے ہوئے دوسرے پرندے اور جانور بھی وہاں جمع ہو گئے یہ جاننے کے لیے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ سمندر نے گرجتے ہوئے چڑیا کو تنبیہہ کی کہ "اب تم یہاں سے چلی جاؤ ورنہ میں تمہیں بھی لے جاؤں گا"

چڑیا کو سمندر کی اس بات پر بہت غصہ آیا اور سمندر سے کہا، "اگر تم واقعی میرے انڈے واپس نہیں کرو گے تو میں تمھیں خشک کر دوں گی اور اپنے انڈے واپس لے جاؤں گی"۔
سمندر نے ایک قہقہہ لگایا "تم مجھے خشک کرو گی؟؟؟ کافی عرصہ ہوا میں نے ایسا مذاق نہیں سنا"۔ چڑیا نے کچھ اور کہے بغیر وہی کرنا شروع کر دیا جیسا اس نے کہا تھا۔ اپنی چھوٹی سی چونچ سے اس نے سمندر سے پانی اٹھا کر دور پھینکنا شروع کر دیا۔ باقی تمام پرندوں اور جانوروں نے چڑیا کو خبردار کیا، "تم نے ایک ناممکن کام شروع کر دیا ہے اور تم ایسا کرتے ہوئے مر جاؤ گی"، چڑیا نے جواباً کہا، "میرے خوابوں کے بغیر میرے جینےکا کوئی فائدہ نہیں، میں مر جاؤں گی لیکن اپنے انڈے واپس لے کے رہوں گی۔" ایک لمبے قہقہے کے بعد سمندر چڑیا کی اس حماقت کو نظرانداز کرتے ہوئے خاموش ہو گیا۔ مگر۔۔۔ چڑیا جاری رہی۔۔

آہستہ آہستہ یہ خبر ہر جگہ پھیل گئ اور خدا تک بھی پہنچی۔ چڑیا کے جوش و جذبہ کو دیکھ کر خدا بھی خاموش نہ رہ پایا اور سمندر سے کہا، "تم چڑیا کے انڈے واپس کیوں نہیں دیتے؟"، سمندر نے خدا کو بھی وہی جواب دیا، "یہ میری فطرت کے خلاف ہے"۔ خدا نے کہا، "اگر تم اس کے انڈے واپس نہیں کرو گے تو مجھے اس بےبس پرندے کی مدد خود کرنی پڑے گی اور تم جانتے ہو کہ میں تمہیں واقعی خشک کر سکتا ہوں"، چڑیا کے جوش اور جذبے اور خدا کی طاقت کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے سمندر نے چڑیا کو اس کے انڈے واپس کر دئیے۔

مَیں نے آج جب یہ کہانی دوبارہ پڑھی تو میرے ذہن میں، یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کی ایک ایسی تصویر سی بن گئی جس میں رُوس سمندر اور یوکرین چڑیا کی طرح نظر آ ئے۔ رُوس اپنے زور اور طاقت کی وجہ سے بربادی پر بربادی کرنے میں لگا ہوا ہے اور یوکرین چڑیا کی طرح بھرپور جوش اور جذبہ سے اپنی جنگ لڑ رہا ہے۔جیسے چڑیا اپنے انڈے بچانے کی جنگ لڑ رہی تھی بالکل ایسے ہی یوکرین اپنے ملک کے لوگوں اور بچوں کو بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔

لگ ایسے رہا ہے کہ رُوس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا اختتام بھی کچھ ایسا ہی ہونا ہے۔ خدا اور دنیا یوکرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور اب روس کے لئے سمندر کی طرح چڑیا کے جوش اور جذبہ کو مات دینا نا ممکن ہو گا.