نا شکرے مہاجرین سے شکرگزار مہاجرین تک
تحریر:-نواز سلامت - ڈنمارک
https://e.jang.com.pk/london/06-03-2022/page7

کچھ سال پہلے جب میں راولپنڈی میں مقیم تھا تو افغانستان سے آئے دو مہاجرین بھائیوں سے سلام دعا ہو گئی ۔وہ دونوں بھائی راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں عینکیں بیچا کرتے تھے۔ جب بھی میرے پاس آتے تو وقت کی مناسبت سے کبھی ہم ایک ساتھ بیٹھ کر صرف چائے پیتے اور کبھی کھانا بھی کھاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سلام دعا ایک اچھی دوستی میں بدل گئ۔

ہم افغانستان اور پاکستان کے ہر ایک ایشو پر کھل کر
بات کر سکتے تھے، اِس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہم حقیقت کو ایک دوسرے کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔وہ حیران تھے کہ ایک مسلم ملک میں اِتنے پڑھے لکھے مسیحی بھی ہیں، میں نے اُن کو بتایا پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے میں مسیحی ایک نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں نے تصویر کا دوسرا رخ بھی بتایا کہ بات ایسی بھی نہیں کہ سب اچھا ہے۔ آج بھی اقلیتوں کو کچھ مسائل درپیش ہیں، لیکن امید ہے کہ وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ میں نے اُن کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بسنے والے مسیحی، پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں اور اُن کی وفاداری کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ کبھی بھی کوئی مسیحی دہشت گردی میں ملوث نہیں پایا گیا۔وہ میری باتیں سن کر خوش نہیں بلکہ حیران ہوتے تھے۔ وہ یہ سوچ رکھتے تھے کہ پاکستان میں افغانی محاجرین کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور بقول اُن کے وہ کچھ حقوق سے بھی محروم تھے۔ بات لمبی ہو جائے گی لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ پاکستان میں ہر قسم کی سہولیات اور حقوق پا کر بھی ناخُوش تھے اور بس وہاں سے یورپ یا امریکہ نکلنا چاہتے تھے۔ خدا نے ان کی دعا سن بھی لی اور وہ دونوں بھائی آج امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور امریکہ میں اپنے ذاتی جنرل سٹور کے مالک بھی ہیں۔ وہ یہ بات تو مانتے ہیں کے اُن کو وہاں تمام حقوق مل رہیں ہیں اور وہ حقوق بھی جن سے وہ افغانستان اور پاکستان میں محروم رہیں ، لیکن مجھے اب یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ میں بہترین زندگی اور آسائشوں کے باوجود اب وہ دونوں بھائی امریکہ کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں۔ وہ ملک جہاں جانا اُنکاخواب تھا، وہ ملک جہاں اُن کو وہ سب کچھ مل رہا ہے جس سے وہ اپنے ملک میں محروم تھے۔ وہ ملک جس نے اُن کو ایک نئی زندگی دی. آخر اب وہ ایسے ملک میں بھی نا خوش کیوں ہیں؟

آج میں ڈنمارک میں مقیم ہوں. یہاں بھی افغانستان، شام، عراق، صومالیہ اور فلسطین سے آئے ہوئے لاکھوں مہاجرین رہائش پذیر ہیں، یقین کیجئے اِن کو یہاں آتے ہی فری قانونی، طبعی، تعلیمی سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ مالی امداد بھی کی جاتی ہیں اور جب اِن کو مہاجر کا درجہ مل جائیں تو سمجھیں لاٹری لگنے کے برابر ہے۔ اِن لوگوں کو وہ حقوق ملتے ہیں جو عام ڈینش لوگوں کو بھی حاصل نہیں اور اچھی خاصی مالی امداد بھی ملتی ہے. ۔لیکن افسوس کہ کہانی یہاں بھی ان دو افغانی بھائیوں جیسی ہی ہے۔ یہ مہاجرین بھی بھی ڈنمارک، یورپ اور امریکہ میں سب بہترین آسائشیں حاصل ہونے کے باوجود اِن ممالک کو صرف برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔

مجھیے یہاں رہتے ہوئے 17 سال ہو چکے ہیں، آج تک کوئی ایسا مہاجر نہیں ملا جو یورپی ممالک کے بارے میں مثبت سوچ رکھتا ہو۔ وہ ممالک جنہوں نے اِن مہاجرین کو ایک نئی زندگی دی اور اِن کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ ترین بنا دیا ہے۔ اِن کی آنے والی نسلیں امن پسند ممالک میں اپنی زندگی گزارے گی لیکن پھر بھی اتنی ناشکری کیوں؟

لیکن ایک سوال ابھی تک میرے دماغ میں اٹکے بیٹھا ہے کہ آخر ایسا کیا ہو سکتا ہے جس سے مہاجرین ناشکری کی سوچ کو ختم کر کے اُن ممالک کے شکر گزار ہوں۔ جنہوں نے مشکل وقت میں اِن کا ہاتھ تھام کر ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لئے تمام سہولیات دیں. دوسرے الفاظ میں ایک نئی زندگی دی.
میری تو یہ الجھن ابھی تک نہیں سلجھ سکی۔
لیکن اگر آپ کے پاس کچھ رائے ہے تو آپ مجھے سوشل میڈیا پر اپنی قیمتی رائے سے آگاہ ضرور کیجئے گا۔