بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے
تحریر: نواز سلامت- ڈنمارک
جب بھی کبھی اعتماد دلانے یا اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کی بات ہو تو اکثر ہمیں بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے“ جیسے متشابہ محاورات یاد آ جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر نظر ثانی کریں اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے اپوزیشن کے لیڈران کی دوڑیں دیکھیں، خاص طور پر وہ لیڈران جو کل تک ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنا چاہتے تھے، ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنا چاہتے تھے اُن کی ملاقاتوں پر ملاقاتوں کے سلسلے دیکھیں تو قسم سے ایسے لگتا ہے جیسے سب کے سب محاورے اِن ہی لوگوں کے لئے بنے ہیں اور یقین ہو جاتا ہے کہ آسمان سمیت بہت سے لوگوں خصوصاً سیاسی جماعتیں یقیناً اپنے مفادات کی خاطر اپنے رنگ بدل سکتے ہیں۔
عمران خان سچا ہے یا جھوٹا، اپوزیشن سچی ہے جھوٹی۔ دلوں کے حال خدا جانے۔۔
لیکن میں پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے پاکستان میں مَورُوثی سیاست سے مایوس ہو چکا ہوں۔ صرف چند خاندان پاکستان پر قبضہ کرنے کے لئے اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی اور ن۔لیگ اقتدار کے اتنے لالچی ہونگے، سوچا تک نہیں تھا۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور ن۔لیگ ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے علاوہ گھر کی خواتین پر بھی نیچے درجے کے جملے کسنے سے باز نہیں رہے۔ لیکن آج جب مَیں آصف زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، بلاول، مریم اور حمزہ شہباز کو دن رات صرف ایک شخص جس کا نام "عمران خان" ہے، کو ہرانے کے لئے ایک ساتھ بیٹھ کر سازشیں کرتے دیکھتا ہوں تو دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے کہ خدایا کسی کے بھی دل میں اقتدار کی اتنی ہوس مت ڈالنا۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہو کہ اِن لوگوں کو ووٹ ڈالنے والے، اپنے لیڈران کے بدلتے رنگ دیکھ کر بھی یہ فیصلہ کیوں نہیں کر پاتے کہ یہ سیاسی مکار اِن کے ووٹ کے اصل حقدار نہیں ہیں۔ لیکن میں تو ایک فیصلہ کر چکا ہوں کہ پاکستان کی بقاہ کے لئے اس ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ بہت ضروری ہے، ابھی تو مجھ جیسی سوچ رکھنے والوں کے پاس سوائے عمران خان کے کوئی اور آپشن ہی نہیں لیکن اگر مستقبل میں کوئی اور لیڈر ابھر کر سامنے آیا تو میں اُس کو بھی ووٹ دے کر ایک بار آزمانے کی کوشش ضرور کروں گا لیکن اِن مکاروں کو کبھی ووٹ نہیں دوں گا جو صرف اقتدار کے لالچ میں صبح کسی کے کپڑے پھاڑ کر ننگا کر سکتے ہیں اور شام کو اسی کے گھر جا کر چائے پی رہے ہوتے ہیں۔
یہ لوگ جتنے بھی رنگ بدل لیں،میرا دل کہتا ہے سیاسی مکاروں کا یہ ٹولا کل بھی ایک دوسرے کا دشمن تھا ، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہیں گے اور ان کی بد نیتی کی وجہ سے ان کی ممکناً آنے والی تحریک عدم اعتماد فیل ہوتی نظر آ رہی ہے اور میرا یقین ہے کہ مجھ جیسا ہر حب الوطن پاکستان، سیاسی استحکام کے لئے ایسی سازشوں کو صرف فیل ہوتے ہی دیکھنا چاہتا ہے اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی عوام بھی آنے والے انتخابات میں ایسے مفادپرستوں کو، پاکستان کو مزید کمزور کرنے کا موقعہ نہیں دیں گے بلکہ پاکستان میں جمہوریت کو بچانے کے لئے، پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لئے، پاکستان میں امن اور سیاسی استحکام کے لئے، اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں گے۔
پاکستان ذندہ باد ۔