وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط
تحریر - نواز سلامت


جناب اعلیٰ

شروع کرتا ہوُں ربِ جلیل کے بابرکت نام سے جس نے ہمیں پاکستان جیَسی سر زمین عطا کی ہے۔ وہ سر زمین جس کو خدا نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

جناب اعلیٰ میرا نام نواز سلامت ہے اور میں آپ کو یہ خط یورپ کے ایک چھوٹے سے مُلک ڈنمارک سے لکھ رہا ہوں۔ میرے خیال میں ڈنمارک کو آپ سے زیادہ اچھے طریقے کوئی اور نہیں جانتا۔ بات کی جائے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی یا نمل یونیورسٹی کی تو اس چھوٹے سے مُلک میں بسنے والے پاکستانیوں نے دل کھول کر آپ کا ساتھ دیا ہے۔ بندہ ان خوش نصیب پاکستانیوں میں سے ایک ہے جس نے آپ کے اُن دونوں نیک مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

جناب اعلیٰ اِس سے پہلے کہ میَں آپ کو خط لکھنے کی وجہ بتاؤں میں چند سطور میں آپ کو اپنے خاندان کی قربانیوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جناب اعلیٰ، 1972َء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے مسیحیوں کے بہت سے ادارے قومی تحویل میں لئے، تو پاکستان کے کونے کونے سے مسیحیوں نے اس زیادتی کی خلاف آواز اٹھائی لیکن ایک مشترکہ آواز جو اٹھی تو راولپنڈی سے، لیکن پاکستان کے کونے کونے میں سنی گئی ۔ جی میں بات کر رہا ہوں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہزاروں مسیحیوں کی آواز جو انہوں نے اپنے مسیحی قائد پروفیسر سلامت اختر کی قیادت میں اٹھائی۔ جناب اعلیٰ اس آواز نے بڑے بڑے ایوانوں کے دروازے تک ہلا دیے لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے حکمرانوں نے مسیحیوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے سودے بازی کرنا مناسب سمجھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پروفیسر سلامت اختر کو اُن کی خواہش کے مطابق نوازنے کی پیشکش بھی کی لیکن پروفیسر سلامت اختر نے وہ فیصلہ کیا جو ایک نڈر، حقیقی اور ایماندار لیڈر کو کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی تمام آفرز کو ٹھکرا دیا۔ لیکن ان کو کیا پتہ تھا کے کسی حکمران کی آفر ٹھکرانے کی سزا ان کے ساتھ ساتھ ان کی آنے والی نسلوں تک کو بھگتنا پڑے گی۔

جناب اعلیٰ، پروفیسر سلامت اختر کی قیادت میں نکلے ہوئے پر امن جلوس پر گولی چلانے کا حکم دیا گیا۔ پولیس کے اس ظلم و ستم سے دو نہتے مسیحی نوجوان آر-ایم جیمس اور نواز مسیح کو شہید کر دیا گیا۔ پروفیسر سلامت اختر کے سمیت ان کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جناب اعلیٰ ان دو شہیدوں کی قربانی کو زندہ رکھنے کے لئے پروفیسر سلامت اختر نے خدا سے وعدہ کیا کہ اگر ان کے دو بیٹے ہوئے تو وہ ان کے نام شہیدانِ راولپنڈی جیمس اور نواز پر رکھیں گے۔ خدا نے ان کی دعا سنی اور آج یہ نواز سلامت اپنے والد کے نقشِ قدم اور شہید نواز مسیح کے مِشن کو اپنا مِشن سمجھ کر مسیحیوں کے دکھ درد کی کہانی آج کے حکمران وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھنے آیا ہے۔

جناب اعلیٰ! میرے خاندان پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی آپ کسی بھی مسیحی رہنما سے پوچھ سکتے ہیں۔ جناب اعلیٰ اس بہادر اور نڈر خاندان کا حوصلہ تو اُس وقت بھی پست نہیں ہوا جب ہمارے والد کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا جاتا، ان کی تنخواہ بند کر دی جاتی، پانی اور بجلی کے کنیکشن کاٹ دیئے جاتے۔ ہمارے والد ہم سے ہمیشہ یہ کہتے کہ یہ مصیبتیں نہیں، تمغے ہیں جو ہماری قربانیوں کے صلہ میں مل رہے ہیں۔ ہمارے دکھ، درد اور تکلیف کی کہانی بہت لمبی ہے لیکن آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان میں ایک ایسا مسیحی خاندان بھی ہے جس نے اپنی کمیونٹی کے لئے اتنی مشکلات برداشت کیں۔
جناب اعلیٰ یہ نواز مسیح اور آر-ایم جیمس کی ہی قربانی کے نتیجہ تھا کہ مسیحیوں کے لئے قومی اسمبلی میں چار سیٹیں مختص کی گئیں لیکن بعد میں ان چار سیٹوں پر شرمناک کاروبار ہوا۔

جناب اعلیٰ کئی حکمران آئے لیکن کبھی ضمیر نے گوارا نہیں کیا کہ ان کو اس طرح کا خط لکھا جائے کیونکہ یقین تھا کہ وہ بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح ہمیں انصاف نہیں دے پائیں گے۔
جناب اعلیٰ میری وابستگی آل پاکستان کرسچن لیگ سے رہی ہے لیکن ہمیشہ آپ کی جماعت تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے۔ آپ کو ووٹ اس لئے دیا کیونکہ آپ مجھے امید کی آخری کرن لگے اور دل کہتا تھا کے آپ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو بلا رنگ و مذہب کے، انصاف دلائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کے سامنے پاکستانی مسیحیوں کا کیس پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جناب اعلیٰ، ہمارے پیارے مُلک کو بنانے اور بچانے میں مسیحیوں کی جدوجہد سے آپ بخوبی واقف ہوں گے لیکن پھر بھی اپنے والد پروفیسر سلامت اختر کی کتاب "تحریک پاکستان کے گمنام کردار" اس خط کے ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ جناب گلے شکوے کی فہرست تو بہت لمبی ہے لیکن آپ کی نظر میں صرف چند اہم ایشوُز رکھوں گا اور امید کرتا ہوں کہ آپ ہماری آواز ضرور سنیں گے۔

جناب عالیٰ یہ جو سلیکش کا نظام اقلیتی سیٹوں پر چل رہا ہے، آپ نے اس کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھایا گیا جس سے یہ امید جاگے کہ آنے والے دور میں مسیحیوں کو ان کے نمائندے، اپنے ووٹ سے چننے کا حق ملے گا۔ جناب اعلیٰ موجودہ سلیکٹڈ لوگوں کو مسیحی قوم اپنا نمائندہ نہیں مانتی۔ مجھے اافسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے بھی اقلیتوں کی سیٹیں پارٹی کے چند ورکرز میں بانٹ دیں۔ یہ لوگ بھی بس اپنے گھر اور بینک بھرنے میں لگے ہوئے ہیں اس لئے ان سے ہم کیا امیدیں رکھ سکتے ہیں۔
جناب اعلیٰ یہ سلیکٹڈ نمائندےکبھی بھی موجودہ الیکشن کے نظام کو غلط نہیں کہیں گے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں۔ ہماری پہلی اور آخری امید ہمارے وزیراعظم عمران خان سے ہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا وزیراعظم اپنی اسمبلی میں اس سلیکشن سسٹم کے خلاف بل پاس کروا کر مسیحیوں اور ان کے ووٹ کو عزت دے گا۔

جناب اعلیٰ امن کے دشمن، پاکستان میں بسنے والے پر امن مسیحی اور مسلمانوں کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے، جس سے دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ جناب اعلیٰ مسیحی اور ہندو لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی اور شادی بھی انہیں امن کے دشمنوں کی ایک سازش ہے۔ ہم اپنے وزیراعظم سے امید کرتے ہیں کہ وہ جلد ایسی قانون سازی کریں جس سے ایسے منفی عناصر کا ہمارے معاشرے سے مکمل خاتمہ ہو سکے۔

جناب اعلیٰ میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے دور حکومت میں امتیازی قوانین کے غلط استعمال میں نمائیاں کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے مسیحیوں پر جھوٹے مقدمات آج بھی بن رہے ہیں، حال ہی میں کراچی کی ایک نرس پر جھوٹا الزام لگا کر اس پر ایف-آئی-آر کروا دی گئی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس واقع کا نوٹس بھی لینگے اور کچھ ایسی قانون سازی کریں گے کہ اس قسم کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کو بھی وہ ہی سزا ملے جو وہ کسی بے گناہ کو دلوانا چاہتے ہیں۔

جناب اعلیٰ ،مجھے یقین ہے کہ آپ مشنری اداروں کی تعلیمی خدمات سے بخوبی واقف ہیں اسی لئے ہمیں امید تھی کہ آپ مشنری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے اور بھٹو دور میں ہتھیائے ہوئے ادارے مسیحیوں کو واپس دلوائے گے لیکن افسوس کہ آپ کی حکومت کے ہی کچھ لوگوں نے ایڈورڈز کالج پشاور کو جبراً ایک سازش کے تحت حکومتی تحویل میں لے لیا۔ وہ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ عدالتی نظام بھی اقلیتوں کو انصاف دینے میں ناکام رہا۔
جناب اعلیٰ ، پاکستان کے مسیحی آپ کو اس وقت سے اپنا ہیرو مانتے ہیں جب آپ عملی طور پر سیاست میں نہیں آئے تھے لیکن جب آپ نے سیاست میں قدم رکھا اور انصاف کا نعرہ لگایا تو پاکستان کے لاکھوں مسیحیوں نے آپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ اس لئے کیا کے ان کو بھی آ پکی صورت میں ایک انصاف کی کرن نظر آئی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے اس خیر خواہ کی بتائی ہوئیں چند گزارشات پر نظرثانی ضرور کریں گے.

آپ کے جواب کا طلبگار
نواز سلامت
چیف آرگنائزر - آل پاکستان کرسچن لیگ