گلگت بلتستان (سفر نامہ)

ابھی کچھ ہی گھنٹے گزرے ہونگے کہ میں پاکستان میں چھٹیاں گزار کر واپس ڈنمارک آیا ہوں۔ پاکستان میں اپنے والدین، اہلیہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ اتنا اچھا وقت گزرا کہ اب دماغ میں صرف یہ بات چل رہی ہے کہ میں کل اس وقت پاکستان میں کیا کر رہا تھا ۔ میری اس کیفیت کو صرف مجھ جیسے پردیسی ہی سمجھ سکتے ہیں۔

پاکستان جانے سے پہلے میں نے اپنی اہلیہ حنا نواز کے ساتھ گلگت بلتستان جانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ پلان یہ تھا کہ میرے پاکستان پہنچنے کے بعد ہم فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے اور پھر دو تین دن گلگت بلتستان ضرورجائیں گے. پلان کے مطابق ہم نے میری فیملی کے ساتھ کچھ دن گزارے اور پھر گگلت کے پلان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ارادہ کیا۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والی پرواز کے دو ٹکٹ میں نے پاکستان جاتے ہی بک کروا لئے تھے۔
جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی پروازیں موسم کی خرابی کے باعث اکثر کینسل بھی ہو جاتی ہیں۔ لیکن ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ گلگت کی فلائٹس شیڈول کے مطابق جا رہی تھیں اور ہم نے ٹکٹ بھی اگلے کچھ دنوں کا موسم دیکھ کر ہی لئے تھے۔ اگلے دن صبح 6:55 پر ہماری فلائٹ تھی۔

پاکستان میں سسٹم کی خرابی کی شکایت کرنا ہم سب کی عادت بن گئی ہے لیکن میں آپ کو بتاتا جاؤں، جہاں خرابیاں ہیں وہاں عوام کے لئے بہت سی سہولیات بھی ہیں۔ جن میں سے ایک کا نام میٹرو کیب ہے جو کہ ایک بہت ہی آرام دہ اور محفوظ ٹیکسی سروس ہے۔ ہماری فلائٹ بہت صبح تھی تو ہم نے فیملی کو تنگ کرنے کی بجائے ایئرپورٹ جانے کے لئے میٹرو کیب کا استعمال کیا۔ ڈرائیور اپنے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے ہی پہنچ کر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ اور ہمیں کال کر دی کہ جناب میں باہر کھڑا ہوں۔ ڈرائیور نے بغیر کسی دقت اور تیز رفتاری کے ہمیں 25 منٹوں میں اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا دیا۔ ہم نے چیک۔اِن کرنے کے بعد ایک کپ چائے پی اور چند ہی لمحوں بعد اپنے جہاز کی طرف روانہ ہوئے۔ میری بیگم اس چھوٹے سے طیارے کو دیکھ کر گھبرا گئیں کہ موسم خراب ہونے پر اگر یہ ڈگمگا گیا تو ہمارا کیا بنے گا۔ میں نے ان کو بتایا کے میں ایسے طیاروں میں پہلے بھی سفر کر چکا ہوں اور یہ بھی اتنے ہی پایہ دار ہیں جتنے بڑے طیارے اس لیے گھبرانے کی بات نہیں۔ جہاز میں بیٹھنے کی بعد پائلٹ نے روٹ کے بارے میں بتایا کے ہم اسلام آباد سے مری، ایبٹ آباد، ناران کاغان، بابوسر ٹاپ کے اوپر سے اڑتے ہوئے 45 منٹ میں گلگت پہنچیں گے۔ راستے میں نانگا پربت جیسی خوبصورت پہاڑی کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ جھیل سیف الملوک کا بھی فضائی نظارہ دیکھنے کو ملا۔

ابھی ہم نے دلکش پہاڑوں کے فضائی نظاروں سے لطف اندوز ہونا شروع ہی کیا تھا کہ آواز آئی کے خواتین و حضرات تھوڑی دیر میں ہم گلگت ایئرپورٹ پر اتر رہے ہیں۔ تقریباً 7:45 ہم گلگت پہنچ چکے تھے۔ گلگت ایئرپورٹ پہاڑوں میں چھپی ایک وادی کا سا منظر دے رہا تھا۔ چند ہی منٹوں میں اپنا سامان لیا اور ایئرپورٹ سے باہر نکلے۔ میرے سکول کا دوست عابد اپنے بچوں کے ہمراہ ہمیں لینے آیا ہوا تھا۔ میں عابد کو 20 سال بعد مل رہا تھا لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے کچھ دن پہلے ہی سکول سے نکلے ہوں۔ عابد کا گھر ائرپورٹ سے قریباً 10 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ گھر پہنچے تو بھابی نے پر تکلف ناشتے کا انتطام کیا ہوا تھا۔ ناشتہ پر سکول کی پرانی باتوں کے ساتھ ساتھ دوسرے دوستوں اور اساتذہ کو یاد کیا ۔ عابد کے بچے عائشہ اور رافع بھی بہت جلد ہمارے ساتھ اپنوں جیسا محسوس کرنے لگے۔ ناشتہ کے بعد عابد اور بھابی نے بہت اصرار کیا کے ہم ان کے پاس ہی قیام کریں لیکن بہت اصرار کرنے کے بعد عابد ہمیں اس جگہ چھوڑ آیا جو ہم نے بک کر رکھی تھی۔ وہ جگہ بھی عابد کے گھر کے بہت نذدیک تھی۔ ہم نے وہاں کچھ گھنٹے آرام کیا اور شام کو عابد نے اپنی فیملی کے ساتھ ہمیں پِک کیا اور دریائے گلگت جِسے "غِزر" بھی کہتے ہیں کے پاس ایک فش فارم پر لے گیا اور وہاں تازہ مچھلی خرید کر اس کی فش کڑاھی اور فش کباب بنوائے۔ کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر ہم نے دریائے گلگت کے کنارے بیٹھ کر آم کھائے اور کچھ تصاویر بنائیں۔ واپسی پر عابد ہمیں ایک ایسے مقام پر لے کر گیا جہاں ایک پہاڑ میں گوتم بدھ کا بہت خوبصورت مجسمہ کھدا ہوا تھا مجسمہ اِس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ کئی دہائ پہلے اس علاقہ میں بدھ مت لوگ رہ کر گئے ہوئے ہیں۔ خیر رات ہونے کو تھی اور ہم بھی تھک چکے تھے تو عابد نے ہمیں ہماری منزل پر اتارا اور خود اپنے گھر روانا ہو گیا۔

اگلے دن ہمارا پروگرام ہُنزہ گھومنے کا تھا۔ میں نے اپنے دوست کی مدد سے ایک گاڑی بُک کر رکھی تھی۔ڈرائیور نے ہمیں صبح 10 بجے پِک کیا اور ہم ہنزہ وادی کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں ہم ایک ایسے پوائنٹ پر رکے جہاں سے دنیا کی 27 ویں بڑی چوٹی راکا پوشی کا منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ راکا پوشی کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی تھی اور اس پر سورج کی کِرنیں چمکتے ہوئے راکا پوشی کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہیں تھیں ۔ وہاں چائے پینے کے ساتھ ساتھ کچھ حسین مناظر اور یادوں کو کیمرے کی آنکھ میں بند کر کے اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں گزرتا ہر منظر دلکشی اور خوبصورتی کی مثال آپ تھا۔ نیلا آسمان، بادل، پہاڑ، جگہ جگہ بہتے چشمے، خوبصورت قراقرم ہائی ویز اور اسکے ساتھ بہتے دریا نے سفر کو حسین بنائے رکھا۔ ایک منٹ کے لئے پلکیں جھپکنے کو دل نہیں کرتا تھا کہ کہیں کوئی منظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے۔ گلگت بلتستان میں اگر آپ سارا دن گاڑی میں بیٹھے اور بنا کہیں رکے بھی سفر کریں تو میرا یقین کریں آپ ایک لمحے کے لیے بھی بور نہیں ہوں گے۔

راستہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا اور قریباً ایک گھنٹہ بعد ہم ہنزہ پہنچ گئے۔ ہمارا ڈرائیور ایک بہت ہی سلجھا ہوا شخص تھا، راستے میں ساتھ ساتھ اس سے بھی گپ شپ ہوتی رہی اور انہوں نے یقین دلایا کہ چونکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے مہمان ہیں اس لئے ہمیں ہنزہ کی سب ہی اہم سیاحتی مقامات گھومانا ان کی زمہ داری ہے۔ ہم سب سے پہلے قلعہ التیت اور قلعہ بلتیت گئے۔ یہ دونوں قعلے ہنزہ کے ثقافتی ورثہ کا حصہ ہیں۔
وہاں پہنچ کر دلکش، حسین نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔ چونکہ یہ قلعے کافی بلندی پر تھے تو ہم وہاں پہنچنے تک ہم کافی تھک گئے اور سوچا کہ نیچے اتر کر جلد کچھ کھایا پیا جائے۔
قلعے سے اترتے ساتھ ہی کچھ میٹر کے فاصلے پر سرینا ہوٹل واقع ہے۔ اور وہاں کھانا کھانے کے بعد کچھ شاپنگ کی اور ہنزہ کے مشہور ترین کیفے جس کا نام ہنزہ کیفے ہے سے والنٹ کیک خریدا جو ہم نے چائے کے ساتھ اپنی اگلی منزل پر کھانے کا سوچ رکھا تھا.
وہاں سے پاسوکونز کی طرف روانہ ہوئے، پاسوکونز میَں نے انڑنیٹ پر دیکھ رکھا تھا تو حقیقت میں اس کو دیکھنا ایسے ہی تھا جیسے کوئی خواب حقیقت بن رہا ہو۔ پاسو کونز دراصل ایک ایسا دلکش پہاڑیوں کا سلسلہء ہے جسکی ہر ایک پہاڑی کونز کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ جسکی وجہ سے یہ پاسو کونز کے نام سے مشہور ہے۔ گلگت بلتستان کا ہر کونا اپنے آپ میں ایک شاہکار ہے۔ آپ جس پوائنٹ پر رکیں گے وہاں کے ہی گردیدہ ہو جائیں گے۔

وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد ہم نے اپنی اگلی منزل عطاآباد جھیل کا رخ کیا۔ بتاتا جاؤں کہ ہمارا راستہ قراقرم ہائی ویز سے تھا۔ قراقرم ہائے ویز کو پاک-چین ہائے وے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چین سے ہوتا ہوا پاکستان میں خنجراب پاس پر پاکستان اور چین کے تجارتی راستہ کو جوڑتا ہے۔ اس راستے کا قدیم نام سِلک روٹ بھی ہے۔ قراقرم ہائی وے پر پانچ خوبصورت ٹنل بھی ہیں جو اس ہائی وے کو مزید پرکشش بناتے ہیں۔ یہ ہائی وے اتنا ہموار ہے کہ جیسے آپکی گاڑی قالین پر چل رہی ہو۔ خیر راستہ طے کرتے ہوئے ہم آخر کار عطا آباد جھیل پہنچے۔ عطا آباد جھیل ایک مصنوعی جھیل ہے جو کہ ایک لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قیام میں آئی اور اب سیاحوں کے لئے ایک بڑی توجہ کا مرکز ہے۔ اسکا پانی اتنا ہی شفاف اور نیلا ہے جتنا آپکو تصاویر میں نظر آئے گا۔
اب چونکہ شام ڈھل چکی تھی اور ہم خوب تھک چکے تھے لیکن ہم ابھی بھی ان سب مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھے تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہاں ہی ایک بہت جوبصورت ہوٹل لگثری ہنزہ میں قیام کریں جس سے جھیل کا پورا لطف آپ اپنے کمرے سے ہی بیٹھے لے سکتے ہیں۔

واپسی پر ڈرائیور نے ہمیں تجویز کیا کہ ہمیں یہاں نلتر ضرور دیکھنا چاہئے تو اگلے دن ہمارا وادیِ نلتر جانے کا پلان بنا ۔ ہم نے انٹرنیٹ پر ہنزہ گلگت کی تصاویر تو یہاں آنے سے پہلے دیکھی ہوئی تھیں اس لئے ہمیں اس جگہ کی خوبصورتی کا پہلے سے بھی اندازہ تھا۔ لیکن نلتر کے بارے میں یہاں آکر ہی سنا اس لئے دل میں ایک ڈر بھی تھا کہ پرجوش ہو کر پلیَن تو بنا لیا ہے لیکن پتہ نہیں وہ جگہ اتنی حسین ہوگی بھی کہ نہیں۔ بحرحال اب تو پلان بنا چکے تھے اب تو ہر حال میں جانا ہی تھا۔ اور پھر جب ساتھی اچھا ہو تو ہر سفر ہی خوبصورت لگتا ہے۔
ہم نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ وہ ہی اگلے دن ہمیں نلتر لے کر جائے کیونکہ ہمارا سفر اس کے ساتھ بہت آرام دہ گزرا۔ لیکن اس نے بتایا کہ نلتر کے راستے پر ہر کوئی گاڑی نہیں چلا سکتا اس لئے ہمیں فور ویل ڈرائیو پر جانا ہوگا۔ تب ہمیں اتنی زیادہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے پھر بھی اسکی بات مانتے ہوئے ہم نے فور ویل گاڑی بک کی اور اگلے دن کے لئے تیار ہو گئے۔

اگلی صبح ہمیں ایک نئے ڈرائیور نے ہمارے گھر سے پِک کیا اور ہم چل دیئے نلتر کی سمت۔ قراقرم ہائے ویز سے ہوتے ہوئے ہم ایک ڈایئورژن (موڑ) سے نلتر کے راستے پر اتر گئے۔ فی الحال تو راستہ بلکل ہموار ہی تھا اور ہم آپس میں باتیں کرتے جا رہے کہ راستہ اتنا بھی خراب نہیں ہے۔ لیکن جیسے جیسے ہم نلتر کی جانب بڑھتے گئے راستہ مشکل ہوتا گیا کیونکہ اب نلتر کا راستہ عام سڑکوں جیسا نہیں تھا بلکہ پتھروں سے بنا ہوا تھا۔ راستہ اتنا تنگ تھا کہ ایک ہی گاڑی ایک وقت میں گزر سکتی تھی۔اگر سامنے سے کوئی گاڑی آ بھی جاتی تو دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور بڑی مہارت سے ایک دوسرے کو راستہ دیتے ہوئے اور اپنی گاڑی بچاتے ہوئے آمنے سامنے سے نکلتے۔
اور پھر جب پتھروں سے گاڑی گزتی اور ہم جھٹکوں سے اپنی سیٹ سے اُچھل جاتے تو سمجھ پڑی کہ ہر ڈرائیور اور ہر گاڑی اس راستے پر کیوں نہیں چل سکتی۔ لیکن ہمارا یہ ڈرائیور بھی ایکسپرٹ اور بہت سلجھا ہوا شخص تھا۔ ان کے ساتھ بھی کافی اچھا اور آرام دہ سفر گزرا۔
نلتر کی وادی جتنی خوبصورت اتنا ہی اسکا راستہ بھی خوبصورت۔ چھوٹے بڑے ہر سائز کے پتھروں سے بنا ہوا اس وادی کے راستے پر سفر کرنے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ آیا۔ راستے کی ایک جانب پہاڑ اور دوسری جانب ساتھ ساتھ دریا چلا آرہا تھا جو اپنے بہاؤ کا رخ کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب موڑ لیتا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے پگھلتے گلیشئرز اپنا راستہ پتھروں کے بیچ میں سے بناتے ہوئے دریا میں آ ملتے۔
ہم نے کچھ مقامات پر رک کر تازہ سیب، ناشپاتی، اور اخروٹ توڑ کر بھی کھائے۔ کیونکہ تازہ پھل درخت سے توڑ کے کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔
اس علاقے میں ایک تو خدا کے ہاتھ کی کاریگری، اوپر سے انسان کی ذہانت کے شاہکار، آپ دیکھ کر دنگ رہ جائیں۔ ہم راستہ انجوائے کرتے ہوئے کونٹینینٹل ہوٹل پر رکے اور وہاں کھانا آرڈر کیا۔ کھانے سے پہلے وہاں کا اسپیشل سوپ پیا جسے انکی علاقائی زبان میں ڈوڈو سوپ کہتے ہیں۔ ہم نے کھانے سے زیادہ وہ سوپ انجوائے کیا۔ کھانا کھا کر ہم ست رنگی جھیل کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستہ جتنا خطرناک اتنا ہی خوبصورت تھا۔ ایک پل آپکو سرسبز میدان نظر آتے تو دوسرے پل گھنے جنگلات جہاں درختوں کے جھنڈ ہی جھنڈ نظر آتے،کبھی بہتے چشمے تو کبھی ندی نالے، اور ان کے آس پاس کھیلتے چھوٹے چھوٹے بچے، جنکی طرف ہم ہاتھ ہلا کر مسکراتے تو وہ اپنی خوبصورت مسکان سے ہمارا استقبال کرتے۔

پتھروں پر بنا ہوا یہ آڑا ٹیڑھا راستہ ہمیں سترنگی جھیل تک لے گیا۔ اب دوپہر کا وقت تھا، پہاڑوں، بادلوں اور درختوں کی گھنی چھاؤں کی وجہ سے شام کا سا سماں تھا، لوگوں کی کمی اور گہری خاموشی یہاں ایک خوفناک سی کیفیت بھی دے رہی تھی۔ شاید اس لئے کہ شہری زندگی کی بھیڑ کے عادی ہو جانے کے بعد ہمیں یہ زندگی دنیا سے باہر کی ہی ایک زندگی لگتی ہے جبکہ وہاں کے رہائشیوں کے لئے وہ پرسکون زندگی ہی سب کچھ ہے۔

ہم وہاں کچھ دیر بیٹھ کر جھیل کے مناظر سے محظوظ ہوئے۔ اور آگے روانہ ہو گئے۔ کچھ دیر بعد ہم ایسے مقام پر پہنچے جسے سکی پوائنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہاں سے وادی نلتر کا نظارہ کسی کان میں چمکتے ہیرے کی مانند تھا۔سکی پوائنٹ ایک سر سبز پہاڑ ہےجو کہ چوٹی سے لے کر میدان تک ہموار، جو سردی کے موسم میں برف سے ڈھک جاتا ہے اور سیاحوں کے لئے سکی کرنے کا ایک اہم سیاحتی مقام بن جاتا ہے۔ ہم چونکہ ایسے موسم میں گئے جب برف باری نہیں ہو رہی تھی تو ہم اس نظارے سے محروم رہے لیکن پھر بھی ہم اس جگہ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو کر آئے۔ ایسے ہمارے اس دن کا ٹارگٹ بھی اختتام کو پہنچا۔ واپسی پر دن غروب ہو چکا تھا اور ہم تھک چکے تھے ۔ ڈرائیور سے کسی اچھی کھانے والی جگہ لے کر جانے کو کہا، جہاں سے ہم نے کھانا خریدا اپنے لئے بھی اور ڈرائیور کے لئے بھی، جسکے بدلے اس نے ہمیں وہاں کے علاقائی "ممتو" اور "چاپ شورو" تحفے کے طور پر خرید کر دیئے جو واقع بہت لذیز تھے۔ آپ جب بھی گلگت بلتستان جائیں تو ان کے علاقائی کھانے ضرور چکھئیے گا آپکو ضرور پسند آیئں گے۔
اور یوں ختم ہوا گلگت بلتستان میں ہمارا تیسرا دن۔

خوبصورت یادیں اور مناظر دل میں سمائے ہم اگلی صبح اپنی فلائٹ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے ۔
گگلت بلتستان، جتنا خوبصورت خطہ، اتنے ہی خوبصورت اس میں بسنے والے لوگ۔ صاف دل، مہمان نواز، ایماندار،اور احساس سے بھرے ہوئے۔
ہر انسان خوبصورتی کو اپنے نظریہ سے تولتا ہے اور اسی لئے کچھ لوگ کہتے ہیں سوئٹزرلینڈ دنیا میں ایک جنت ہے۔ میں نے سوئٹزرلینڈ بھی دیکھا اور اُس سے بھی زیادہ خوبصورت ممالک لیکن میرا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا ملک پاکستان کسی جنت سے کم نہیں۔ بس دعا یہ ہے کہ یہاں کے حکمران اس جنت کے ٹکڑے کو مزید خوبصورت بنانے کے لئے عملاً اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
"پاکستان زندہ باد"