اعجاز قیصر پرائڈ آف پرفارمنس
-تحریر: نواز سلامت

کبھی کبھی زندگی میں ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑتا ہے جو ہمیں بے حد متاثر تو کرتے ہیں لیکن ہم اس پسندیدگی کا برملا اظہار نہیں کر پاتے اور اسی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں انجانے میں کوئی گستاخی نہ ہو جائے اور کہیں یہ ناقص الفاظ ہمارے جذبات کی بخوبی عکاسی کرنے میں ناکام نہ ہوجائیں۔
میرے ساتھ ایسا متعدد بار ہوا ہے۔لیکن سب سے زیادہ مشکل اس وقت درپیش ہوئی جب دل نے چاہا کہ محترم اعجاز قیصر صاحب سے کچھ کہوں، مگر میں یہ جسارت نہ کرپایا اور اب جب کچھ روز قبل ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی تو یہ حسرت دل میں کانٹا بن کر چبھنے لگی۔ اور دل نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس انسیت کو قلم بند کروں جو میرے دل کو ان کی شخصیت سے تھی۔
جناب اعجاز قیصر صاحب کا شمار پاکستان کے نامور گلوکاروں میں ہوتا ہے اور غزل گوئی میں آپ اپنی مثال خود تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نہایت عمدہ شخصیت کے حامل تھے۔ غزل کی دنیا میں سب سے بڑا نام جناب مہدی حسن صاحب کا ہے لیکن وہ بھی جناب اعجاز قیصر کی غزل گوئی کے مداح تھے اور ان کو شوق سے سنا کرتے تھے۔ جناب مہدی حسن صاحب اور جناب اعجاز قیصر صاحب کے درمیان برادرانہ الفت تھی۔

میرے والد پروفیسر سلامت اختر اور جناب اعجاز قیصر صاحب کے مابین ایک احترام کا رشتہ رہا ہے، دونوں کو خدا نے اپنے اپنے دائرہ کار میں بے پناہ عزت سے نوازا، اور دونوں کے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں ہزاروں چاہنے والے اور خیر خواہ موجود ہیں۔ والد محترم کی وساطت سے ہی مجھے جناب اعجاز قیصر صاحب سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔
میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اچھی موسیقی کو روح کی غذا سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ باوجود چند مختصر ملاقاتوں کے جناب اعجاز قیصر صاحب کا میٹھا لہجہ اور ان کی پرسوز آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔
بلاشبہ خدا نے جناب اعجاز قیصر صاحب کو دنیا میں بہت عزت دی لیکن پھر بھی ان کی قدردانی میں ہم لوگوں سے کچھ کوتاہی ضرور ہوئی ہے۔ میں ان کی علالت اور روزمرہ زندگی سے بخوبی واقف تو تھا لیکن آج جب، ان کو بےحد پیار کرنے والے ایک قریبی دوست اور ایک سچے مداح، پاکستان کے معروف کامیڈین، سجاد جانی نے ان کی زندگی کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا تو میں تقریباً سکتے میں آگیا۔ سجاد جانی ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو جناب اعجاز قیصر صاحب کے آخری آیام میں ان کی صحبت نصیب ہوئی۔
جانی بھائی کے ایک ایک لفظ سے جناب اعجاز قیصر صاحب کے لیے پیار، عقیدت اور محبت جھلک رہی تھی۔ لیکن ان تمام باتوں میں سے ایک بات جو میں نے شدت سے محسوس کی وہ یہ تھی کہ ان کی حیات میں ہم ان کو وہ مقام دینے میں ناکام ریے ہیں جس کے وہ اصل حقدار تھے۔
سجاد جانی نے اپنے چینل کے ذریعے ان کی آواز کو ایک طویل عرصے کے بعد ان کے مداحوں تک پہنچانے کا آغاز کیا تھا ۔ جس کے لیے میں ان کا بےحد شکر گزار ہوں۔ سجاد جانی نے ان کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا لیکن اس کا ذکر کرنا یہاں مناسب نہیں کیونکہ اس کا معاملہ ان کے، جناب اعجاز قیصر صاحب اور خدا کے درمیان رہنا ہی بہتر ہے۔
جناب اعجاز قیصر صاحب کو 2016 میں حکومت پاکستان نے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا لیکن افسوس کہ تمغہ کارگردگی وصول کرنے کے باوجود آخری ایام میں وہ کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے رہے اور حکومت کے کسی ایک نمائندے کو فرق تک نہ پڑا۔
حیرت اس بات کی ہے کہ اب ان کی وفات کے بعد، اچانک سوشل میڈیا پر لوگ ان کے ساتھ تصاویر لگا کر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جیسے ان سے زیادہ کوئی جناب اعجاز قیصر صاحب کے قریب نہ تھا۔ مجھے عام لوگوں سے گلہ نہیں کیونکہ وہ بیچارے تو کچھ نہیں کر سکتے تھے، گلہ تو ان با اثر لوگوں سے ہے جو جناب اعجاز قیصر صاحب کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے مگر پھر بھی انہوں نے کچھ نا کیا اور ان کو اس علالت کے ساتھ حالات کی بے رحم چکی میں پسنے کے لئے تہنا چھوڑ دیا۔ سخت تنگدستی کے باوجود اس مرد قلندر نے سفید پوشی کا دامن نہ چھوڑا اور خاموشی سے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
جناب اعجاز قیصر صاحب تو رخصت ہوئے لیکن ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔ میرا دل ان کے لواحقین اور دیگر مداحوں کی مانند رنجیدہ تو ہے مگر خوشی اس بات کی ہے کہ اب بھی ہم ان کی آواز سن سکتے ہیں۔ اور ان کو یاد کرسکتے ہیں۔
میں حکومت اور صاحب حیثیت افراد سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنے آرٹسٹوں کی قدر کریں، ان کو ان کی حیات میں وہ مقام دیں جس کے وہ حقیقی حقدار ہوتے ہیں۔
ان کو پذیرائی دینے میں اس بات کا انتظار نہ کیا کریں کہ وہ اس جہاں سے کوچ کرجائیں۔اور ان کے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ تصاویر لگا کر افسوس کر لینے کو کافی نہ جانیں۔
میں سجاد جانی کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر یہی اعجاز قیصر ہمارے پڑوسی ملک میں ہوتے تو ان کا مقام کچھ اور ہوتا اور ان کے یوں اچانک چلے جانے پر حکومت کی طرف سے افسوس کا اعلان ضرور ہوتا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیتے جی کسی کی قدر نہیں کرتے۔ اس کے لئے انسان کو مرنا ہی پڑتا ہے۔
خدا جناب اعجاز قیصر صاحب کو جنت میں بہترین مقام دے اور ان کے خاندان کی مشکلوں کو آسان کرے۔ آمین