اورسیز پاکستانی ان پاکستان



جب سے ہوش سنبھالا ہے، ایک بات بار بار بلکہ ہزاروں بار سننے کو ملی، وہ بات کبھی ٹی وی میں سنی، کبھی اخباروں میں پڑھی اور کبھی کچھ سیاست دانوں کے منہ سے سنی، آپ سوچ رہے ھونگے کے وہ کیا بات ہو سکتی ہے. جی وہ بات یہ ہے کہ اورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں، میں اس بات سے بلکل اتفاق بھی کرتا ہوں کے اورسیز پاکستانیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور پیسے بھیجنے سے پاکستان کی معیشت کسی حد تک مضبوط ہوتی ہے لیکن اس بات کا مطلب یہ نہی کے صرف پیسے بھیجنے سے آپ نے اپنے ملک سے وفاداری کے تمام ثبوت دے دیے ہیں، میرے خیال میں ایک اورسیز پاکستانی کی حیثیت سے سے ھم پر اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن کو ھم اکثر بھول جاتے ہیں.

اورسیز ممالک میں پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھتی یے لیکن زیادہ تعداد ابھی بھی ان لوگوں کی یے جو کوئی نہ کوئی نوکری کر کے اپنے گھر کا سرکل چلا رھے ہوتے ہیں. میری نظر میں ہر وہ شخص کامیاب اور خوش نصیب ہے جس کے پاس پردیس میں نوکری ہے اور وہ اپنے گھر کے نظام اور بچوں کی ضرورتوں کو اچھے طریقے سے پورا کر رھا ہوتا ہے لیکن بات یہاں بھی ختم نہی ہو جاتی.

آج بھی بہت سی پاکستانی فیملیز گرمیوں کی چھٹیاں پاکستان میں گزارنا پسند کرتی ہیں، تفریح کی تفریح اور ساتھ ساتھ تمام عزیزوں و عقارب سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے. اس سے بہتر کیا بات ہو سکتی یے ایک تیر میں دو دو شکار لیکن یہاں میں اس ذمہ داری کی بات کروں گا جو اورسیز پاکستانی  پاکستان میں اپنے قیام کے وقت اکثر بھول جاتے ہیں. مجھے یہ اتفاق ہوا ہے کے میں نے بزنس کمیونٹی اور ایک عام اورسیز شہری دونوں کو پاکستان میں چھٹیاں گزارتے دیکھا یے. بزنس کمیونیٹی سے تعلق رکھنے والے چند دوست وہاں جا کر ضرورت سے زیادہ شو آف کرتے ہیں لیکن زیادہ تر اپنے پاؤں زمیں پر رکھ کر، فیملی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار کر واپس لوٹ آتے ہیں لیکن دوسری طرف ایک وہ عام اورسیز شہری کی فیملی ہے جو یہاں صرف اپنی ضرورتیں پوری کر سکتا ہو لیکن پاکستان جا کر وہ خود بادشاہ سلامت اور اس کی بیوی ملکہ عالیہ اور بچے شہزادے اور شہزادیوں کا درجہ اختیار کر جاتے ہیں اور صرف اپنے رشتہ داروں، خاص طور پر غریب رشتہ داروں کے سامنے ضرورت سے بھی زیادہ شو آف کرتے ہیں.  میرے خیال میں  ایسے لوگ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور کم از کم پاکستان میں چند لوگوں کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کے وہ بہت امیر ہیں اور وہ دنیا کے سب سے زیادہ خوش نصیب ہیں.میں سوچتا یہ ہوں کے یہ دوست کبھی یہ کیوں نہی سوچتے کے ان کے اس فیک شو آف کی وجہ سے پتہ نہی کتنے رشتہ دار، ان کے بچے اور فیملی سے باہر بھی ان کو دیکھنے والوں میں بھی احساس کمتری جیسی چیز پیدا ہو سکتی ہے، ان کے اس شو آف کی وجہ سے فیملی کے جوان بچے تعلیم سے فوکس کم کر کے بس کسی نہ کسی طرح پیسہ حاصل کرنے کو اپنا مشن بنا لیتے ہیں بےشک ان کو کوئی غلط راستہ ہی کیوں نہ اپنانا پڑ جائے اور کچھ نوجوان لڑکے تو سب کچھ بھول کو الیگل طریقے سے  اور اپنی جان پر کھیل کر  یورپ پہنچنے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں.

میں اپنے تمام اورسیز دوستوں سے درخواست کروں گا کہ جب آپ پاکستان جائے تو اپنے عزیزوں عقارب سے بلکل ایسے ملا کرے جیسے آپ پاکستان میں ہوتے تو ملتے اور ان کے احساسات کا احترام کیا کریں، میں جب بھی پاکستان جاؤں تو میری والدہ اکثر مجھ سے کہتی ہے کے لگدا ھی نی کے تو باروں آیا وے اور میں ھمیشہ جواب دیتا ہوں میں ایتھوں ھی گیا وا اور میں چاندا وی نی کے اے لگے کے میں چن تو آیاں وا. آخر میں آپ سب  دوستوں سے اپیل ہے کے فیملی کے نوجوان بچوں کو یہ بتانا ھمیشہ یاد رکھا کرے کے یورپ میں پیسے درختوں پر نہی لگے اور دیس میں رھنا پردیس میں رھنے سے سو درجے بہتر ھے.