پاکستان تمہارا بھی ہے پاکستان ہمارا بھی ہے

لوگ کہتے ہیں آجکل ہر دوسرا شخص تجزیہ نگار بنے بیٹھا ہے اور یہ حقیقت جھٹلائی بھی نہیں جا سکتی، پاکستان کی سیاست پر تو لگتا ہے ہر دوسرا شخص ہی پی- ایچ-ڈی کی ڈگری لیئے بیٹھا ہے- کبھی کبھار تو آپ کو حجام اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز سے بھی سیاسی اور مذہبی ایشوز پر ایسا دلچسپ یا عجیب و غریب تجزیہ سننے کو ملے گا کہ آپ سوچتے ہی رہ جایئں گے کہ ان کے ذہن میں یہ بات آئی کیسے۔ کبھی کبھی ان کی گفتگو بالکل حقیقت کے قریب بھی ہو سکتی ہے اور کبھی حقیقت سے بہت دور.

پاکستان میں بہت سی تنظیمیں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان میں مسیحیت اور دوسرے مذاھب سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم ہیروز کی قربانیوں کو ایک شناخت دلوانے کے لیے کام کر رہیں ہیں ۔ میرے والد پروفیسر سلامت اختر نے اپنی کتاب تحریک پاکستان کے گمنام کردار اور ممتاز مسیحی سکالر اعظم معراج نے اپنی بہت سی کتابوں میں مسیحی ہیروز کو نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر شناخت دلوانے کی کوشش کی اور ان کی ہی کتابوں کی وجہ سے آج لاکھوں لوگوں کو اپنے ہیروز کی قربانیوں کا پتہ چل رہا ہے، ان قربانیوں کا جن سے ہم صرف کچھ عرصہ پہلے تک بلکل ناواقف تھے۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود افسوس کے آج بھی اکثریت ان نادان لوگوں کی ہے جو پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو یا تو پاکستانی ہی نہیں سمجھتے یا دوسرے درجے کا شہری مانتے ہیں۔

میں کتاب تو لکھ نہیں سکتا اور نہ ہی اتنا علم رکھتا ہوں کہ اس کو ایک کتاب کی شکل دے سکتا لیکن، جب کبھی موقع ملے تو تحریکِ پاکستان میں مسیحیوں کی قربانیوں اور اپنے ملک پاکستان سے وفاداری پر بات کرنے سے رک نہیں سکتا، اگر سننے والے سے ایک منفی رویہ بھی متوقع ہو تو بھی اپنی بات ایک مناسب طریقہ سے سمجھانے کی کوشش ضرور کرتا ہوں.

کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی سے اسلام آباد جانے کے لیے ایک ٹیکسی میں بیٹھا، کچھ ہی لمحوں بعد ڈرائیور نے راولپنڈی میٹرو بس کی تعریفیں کرنا شروع کر دیں ، میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کوئی شک نہیں کہ اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی جناب نے ایک عجیب سی بات کہہ ڈالی کے عمران خان ایسے مزید منصوبے لانے کی بجائے امریکہ کو کشمیر بیچ آیا ہے ، دوسرا جملہ جو اس کے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ خدا کرے کہ ٹرمپ مر جائے، یہ اسلام دشمن اور انڈیا کا دوست ہے، ایک منٹ تو میں خاموش رہا لیکن پھر اس بھائی کو کہا اگر ٹرمپ مر گیا تو اس جیسا کوئی اور آجائے گا، ڈرائیور نے جواب دیا وہ بھی مارا جائے گا، میں نے کہا پھر کوئی اور اس جیسا آ جائے گا، ڈرائیور بھائی کچھ سیکنڈوں کے لیے خاموش ہوا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا میں مسلم ہوں، میں نے جواب دیا میرے بھائی میں ایک مسیحی ہوں، اس نے جواب دیا اسی لیے آپ ٹرمپ کی سائیڈ لے رہے ہیں، میں نے اس بھائی کو مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میرے بھائی مسیحی وہ محب الوطن قوم ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے میں بہت قربانیاں دی ہیں اور آج بھی تعلیم، دفاع، صحت اور عام زندگی کے شعبوں میں ہزاروں مسیحی پاکستان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں اور خدا نہ کرے اگر امریکہ اور پاکستان کی جنگ ہو تو کیا آپ سمجھتےامریکہ پہلے ہمیں یہاں سے نکالے گے، اس نے خود ہی جواب دیا نہیں، میں نے کہا ہم دنیا میں جہاں بھی جائیں ہمیں پاکستانی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، آپ اپنے زہن سے نکال دیں کہ پاکستانی مسیحیوں کا امریکہ سے کوئی سپیشل رشتہ ہے، پاکستان کا دوست ہمارا دوست اور پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے۔
پاکستان کے دشمن بھارت ہو یا کوئی اور وہ پاکستان میں بسنے والوں کو صرف پاکستان کی نظر سے دیکھتے ہیں.
اس بھائی کو تو میری بات سمجھ آ گئ لیکن میں سوچتا یہ رہ گیا کہ کیا کرنا چاہیے کہ پھر کبھی کسی کو ایسا سوال نا ہو، آخر کیسے ہم عام انسان تک غیر مسلم ہیروز کی داستانوں کو پہنچا سکتے ہیں، میں چاہتا تھا کے جو سوال مجھے آج پوچھا گیا، کسی اور کو دوبارہ نہ پوچھا جائے، میرے خیال میں جب تک مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں قائداعظم کے ساتھ ساتھ ان غیر مسلم سپاہیوں کا ذکر نہ کیا گیا جو 14 اگست 1947ء تک قائداعظم کے شانہ بشانہ کھڑے تھے اور پاکستانی میڈیا نے جب تک تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والے غیر مسلم ہیروز کو پہچان دلوانے کے لیے ایک مثبت کردار ادا نا کیا تو محب وطن پاکستانی مسیحیوں کی وفاداری پر سوال اٹھتے رہیں گے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ نیشنل تہواروں پر پبلک کیمپین میں اپنے غیر مسلم اس سے ہیروز کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھی یاد رکھا
کرے. اس عمل سے ہمارے دلوں میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہو گے اور بلا شبہ پاکستان میں مذہبی ہم آھنگی کو فروغ ملے گا۔

پاکستان تمہارا بھی ہے
پاکستان ہمارا بھی ہے
چاند تمہارا چاند تمہارا
اپنا ساتھ ستارہ بھی یے
اتنی جلدی بھول گئے ہو
پاکستان بنایا کس بے
پاکستان بنانے میں تو
کاسٹنگ ووٹ ہمارا بھی ہے