امیر اور غریب کا جسمانی ریمانڈ

خدا دشمن کو بھی کبھی پولیس، کچہری، جیل اور ہسپتال کا منہ نا دکھائے. یہ بات ہم سب بہت سالوں سے سنتے آ رہے ہیں. لیکن سوچتا یہ ہوں کے آخر کیا وجہ ہو سکتی  ہے کسی بزرگ نے اتنی بڑی بات کہہ دی، انصاف کے لیے پولیس اور کچہری کا دروازہ تو ہر انسان کو کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے اور ایک مجرم کا جیل جانا بھی ضروری ہے بے شک وہ دوست ہو یا دشمن اور بیمار ہسپتال نھی جائے گا تو کہا جائے گا. خدا دشمن کو پولیس کچہری نا دکھائے کہنا کسی انسان کی نیک نیتی کی علامت سے زیادہ نہی، آج کے دور میں اس کہاوت کو کچھ اس طرح سے کہنا بہتر ہو گا کے خدا کسی غریب انسان کو پولیس، کچہری، جیل اور ہسپتال کا منہ نا دکھائے.

پاکستان سے دور سہی لیکن قریب بھی بہت ہیں ہم اورسیز پاکستانی اور اس بات کو ہمارا خدا اور ہماری روح جانتی یے. کسی بھی پاکستانی گھر میں جائیں تو اپ کو ٹیلی ویژن پر جیو نیوز یا اے آر وائےلگا نظر آئے گا. چینل جو بھی ہو خبریں آپ کو ایک طرح  ہی کی ملیں گی کے مریم نواز کے جسمانی یا  جوڈیشنل ریمانڈ میں توسیع، رانا ثنا اللہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع، حمزہ شھباز، مفتی اسماعیل، خاقان عباسی، آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے ریمانڈ میں توسیع اور اس کے ساتھ ساتھ آپ ان سب کو وی آئ پی گاڑیوں میں فل پروٹوکول کے ساتھ کبھی غدالت، کبھی جیل اور کبھی ہسپتال جاتے ہوئے دیکھے گے کبھی میڈیا پر یہ فرمائشیں کر ریے ہوتے ہیں کے جیل میں اے سی نہیں ، ٹی وی نہیں ، یہ لوگ کیا یہ سمجھ رہے ہیں کے یہ چھٹیاں منانے جیل گئے ھیں.

ایک اور خبر جو اکثر ہمیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ یہ کہ کسی صلاح الدین کو ایک اے ٹی ایم سے کریڈٹ کارڈ چوری کرتے پکڑا جاتا یے، کسی عامر مسیح کو سٹریٹ کرائم کے الزام میں پکڑا جاتا ہے اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد پولیس کے ٹارچر سے ان دونوں کی موت کی خبر میڈیا پر آ جاتی ہے. میں نے آج جب صلاح الدین کے بزرگ والد کو سرد خانے سے بیٹے کی لاش لیتے دیکھا اور عامر کے ورثا کو اس کی لاش روڈ پر رکھ کر احتجاج کرتے دیکھا تو دل ٹوٹ گیااور ایک بار پھر دل سے  یہ دعا نکلی کے خدا کسی غریب کو پولیس، کچہری اور ہسپتال کی شکل نا دکھائے.

آج حکومت وقت جو انصاف کے نعرے اور پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا خواب لے کر آئی تھی کے لیے سوچنے کا وقت ہے کے وہ ریمنانڈ کے دوران پولیس ٹارچر کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار داد اور پولیس ایکٹ کے اپنےقانون  پر عمل کو یقینی بنائے . انصاف کے حصول کے لیے امیر اور غریب کو برابر کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کرنے کا وقت یے آ چکا ہے، جسمانی ریمانڈ کے متعلق قوانین میں تبدیلی اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کے لیے اس سے بہتر کوئی وقت نہی ہو سکتا، ججز صاحبان کو بھی چاہئے کے کسی بھی ملزم کو پولیس کے ریمانڈ میں دیتے وقت یہ تلقین کرے کے ٹارچر سے گریز کیا جائے، اگر ان باتوں پر حکومت وقت نے غور نہ کیا تو پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا خواب صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا.