ڈنمارک کا ریڈیو ہم وطن

ڈنمارک دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ایک پُرامن مُلک ہے اور یورپی یونین میں ایک بڑے مضبوط رُکن کی حثیت رکھتا ہے، کسی بھی  ترقی یافتہ ملک کی تاریخ پڑھی جائے تو اس ملک کو ماضی میں کسی نا کسی  وقت بہت سے معاشی مسائل کا سامنا ضرور رہا ہے مگر اُس وقت کےحکمرانوں نےمُلکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے جامع منصوبہ اور ایک مناسب لائحہ عمل بنایا ،اسی طرح اس ملک کی عوام نے بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکومت کا ساتھ  دیا جس کی بدولت وہ  ممالک آج خوشحال ہیں اور دُنیا  میں اپنی قابلیت کا لوھا منوا رہے ہیں مگر دوسری جانب جن ممالک کے حکمرانوں اور عوام نے ذمہ داری نہیں نبھائی اِن کی آنے والی نسلیں بھی قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔
آج سے تقریباً پچاس برس قبل ڈنمارک کو بھی بہت سی معاشی مشکلات کا سامنا تھا، مُلک کو ترقی اور معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے افرادی قوت کا بحران تھا جس پر قابو پانے کے لیے ڈنمارک کی حکومت نے ایشیا اور افریقہ میں پرنٹ میڈیا کے ذریعے اشتہارات بھیجے. پاکستان سے بھی سینکڑوں افراد نے اپنا رختِ سفر باندھا اور اپنے خاندان کو ایک اچھا مستقبل دینے کا خواب ساتھ لے کر ڈنمارک کا رُخ کیا۔ یہ بات آپ کے لیے شائد حیران کُن ثابت ہو کہ اُس دور میں پاکستان سے  ڈنمارک سفر کے لیے کسی فضائی پرواز کی سہولت موجود نہ تھی تاہم مسافر لوگ بسوں کے ذریعے افغانستان سے روس اور روس سے یورپ میں داخل ہوتے تھے جو کہ ایک طویل اور کٹھن سفر تھا.
عوام کی فلاح وبہبود اور انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے ڈنمارک کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے یہاں ترقی کے یکساں مواقع ہر انسان کے لیے موجود ہیں ۔ پاکستان سے آنے والے ہنر مند ، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار لوگوں نے اچھی ملازمتں حاصل کر لیں مگر دیگر نے مختلف فیکٹریوں میں محنت مزدوری کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کیں۔
کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان غلام مصطفیٰ نے بھی اپنی قسمت آزمانے کے لیے ڈنمارک کا رُخ کیا. اسی محنتی نوجوان کو آج ہم بابا جی یا بابا غلام مصطفیٰ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں. یہاں پہنچ کر نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ غلام مصطفیٰ اور اِن کے بیٹے غلام مرتضیٰ کی ایک خواہش تھی کے ہم اپنے ملک پاکستان سے اپنے تعلق کو  کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے اور ڈنمادک میں بسنے والے  پاکستانی دوستوں کو بھی پاکستان کے حالات سے آگاہ کرتے رہیں . اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے غلام مرتضیٰ نے1985 میں ریڈیو ہم وطن کی سروس شروع کی. ڈنمارک کی حکومت اور کچھ پاکستانی دوستوں نے اس سلسلے میں ان کی بھرپور مدد کی. ریڈیو کو پہلے دن سے ہی بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل رہی۔  بابا جی مذھبی پروگرامز کے حوالہ سے خدمات سرانجام دیتے تھے اور غلام مرتضیٰ بھائی ڈنمارک کے حالاتِ حاضرہ اور سمندرپار پاکستانیوں کے مسائل پر بات کیا کرتے تھے. دونوں باپ بیٹے نے تھوڑی سے عرصہ میں، پاکستانی کمیونٹی میں اپنی اور ریڈیو ہم وطن کی ایک خاص پہچان بنا لی، کچھ عرصہ گزرنے کہ بعد غلام مرتضیٰ بھائی شادی اور خاندانی امور کی وجہ سے ریڈیو ہم وطن کو زیادہ وقت نہیں دے پا رہے تھے تب بابا جی کے دوسرے بیٹے رضا مصطفیٰ نے ریڈیو ہم وطن کی خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا. رضا مصطفیٰ نے دن رات محنت کر کے ریڈیو کو ایک نیا رنگ اور نئی زندگی دی. وطن کی محبت سے سرشاراکثر پاکستانی آج اپنے گھروں اور گاڑیوں میں ریڈیو ہم وطن سنتے ہیں جس سے پاکستان سے دور ہونے کا احساس قدرے کم ہوجاتا ہے. پاکستان سے تشریف لانے والی سیاسی شخصیات کو ریڈیو کے پروگرامز میں مدعو کیا جاتا ہے تا کہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنی کمیونٹی سے ایک ملاقات کر سکیں اور یہاں مقیم پاکستانیوں کو اپنا پیغام دے سکیں. پاکستان کے تمام قومی تہواروں پر ریڈیو ہم وطن تمام تنظیموں کے نمائندوں کو موقعہ دیتا ہے تاکہ وہ آ کر تمام کمیونٹی تک اپنا پیغام دے سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ رضا مصطفیٰ ان تمام پروگرامز میں شریک ہو کر سوشل میڈیا پر براہ راست ان پروگرامز کو پاکستانی کمیونٹی تک پہنچاتے ہیں۔
ریڈیو ہم وطن کی کامیابی کی بات کی جائے تو پاکستانی نزاد ڈینش باشی قریشی بھائی کا نام نظرانداز نہیں کیا جا سکتا. باشی بھائی کئی برسوں سے باشی کے سنگ کے نام سے اپنا پروگرام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں. مجھ سمیت سینکڑوں پاکستانی جب بھی موقع ملے ان کے اس پروگرام کو ضرور سنتے ہیں۔ بابا جی کی اس عظیم کاوش نے یہاں پر مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن کی مٹی سے جوڑے رکھا ہے اور خدمت کا یہ سفر پوری محنت اور لگن کے ساتھ جاری ہے۔
خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آج میں اس مضمون کے زریعے بابا جی، ان کے بیٹوں اور ریڈیو ہم وطن کی تمام ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ھزاروں کلو میٹر دور رہ کر بھی پاکستان کو نہیں بھولے اور اتنے برسوں سے ایک منفرد طریقے سے پاکستان اور پاکستانیوں سے اپنی محبت، خلوص اور وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں۔