تحریک پاکستان کے گمنام کردار

جب بھی 14 اگست کا دن قریب آ تا ہے تو میرے ذہن میں اپنے والد محترم کا بتایا ہوا وہ قصہ آ جاتا ہے جب وہ اپنے والد یعنی میرے دادا جی کے ساتھ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے۔ کبھی کسی جلسہ اور کبھی کسی جلوس میں اپنی لکڑی کی بندوق کے ساتھ'' *لے کر رہیں گے پاکستان* '' کے نعرے بلند کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ کے مختلف دیہاتوں میں نہتے مسلمانوں اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے خیر خواہوں پر ھندوؤں اور سکھوں کےکئے ہوئے ظلم و ستم کی وہ داستانیں کانوں میں گونجتی ہیں جو میرے دادا جان  ہمیں سنایا کرتے تھے۔

ہماری تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس میں ہمیشہ ان لوگوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو اصل میں تاریخ ساز ہوتے ہیں اور درباری تاریخ دان صرف ان لوگوں کی تاریخ لکھتے ہیں جن کے وہ وظیفہ خوار ہوتے ہیں مثلاً ہم تاریخ کی کتابوں میں یہ پڑھتے ہیں کہ تاج محل شاہ جہان کا شاہکار ہے حالانکہ سب کو یہ معلوم ہے کہ شاہ جہاں نے اپنے ہاتھ سے تاج محل کی ایک بھی اینٹ نہیں  لگائی تھی۔

تحریک پاکستان کی تاریخ میں بھی کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے، بے شک قائداعظم محمد علی جناح اس تحریک کے بانی ہیں لیکن تاریخ پڑھاتے وقت اگر قائداعظم کے ان ساتھیوں کا ذکر نہ کیا جائے جنہوں نے قائد کا ساتھ دینے کے  لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا یا قربان کر دیا تو یہ تاریخ سے اور قائد اعظم محمد علی جناح کی روح سے بھی نا انصافی ہوگی۔ تاریخ پڑھاتے وقت ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ ہم ان مسیحی، ھندؤ اور سکھ رھنماؤں کا ذکر ضرور کریں جنہوں نے آل انڈیا کرسچن لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان کے وقت قائداعظم اور اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اور ظالمانہ تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کے نعرے لگائے تھے۔

میں نے اسی المیہ پر روشنی ڈالنے کے لیے اپنے والد پروفیسر سلامت اختر کی کتاب '' *تحریک پاکستان کے گمنام کردار* '' ایک بار دوبارہ کھولی اور جب میں نے رلیا رام برادران، ھیڈ ماسٹر فضل الہی، سی ای گبن، جوگندرناتھ منڈل، قانون دان لالہ کوٹو رام، جسٹس کورنیلیس، چوھدری چندو لال، مزدور رھنما الفریڈ پرشاد، ماہر تعلیم ہیرا لال حیات، ڈاکڑ ایچ ایم اے ڈریگو، پروفیسر ڈاکٹر صابر آفاقی، ڈاکٹر سرجن جان پٹیل، سوامی دھرمہ تیرتھ، سردار گیانی ہری سنگھ، چوھدری سر محمد ظفر اللہ، جوشوا فضل الدین  اور دیوان بہادر ایس پی سنگاہ کی خدمات کو پڑھا تو ایک بار پھر تاریخ دانوں کی وہ بات سچ لگنے لگی کہ پاکستان کی تاریخ اکثر کچھ ادھوری سی لگتی ہے۔ اگر آپ تحریک پاکستان کے گمنام کرداروں کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو میری ویب سائٹ *www.nawazsalamat.dk* پر اس کتاب کو آن لائن پڑھنے کے لئے ضرور وقت نکالیں۔

ایک مضمون میں تحریک پاکستان کے گمنام سپاہیوں کی داستانیں سنانا تو  نامکمن سا ہے مگر دیوان بہادر ایس۔پی سنگاہ کی خدمات کا ذکر نہ کئے بغیر میرا مضمون لکھنے کا مقصد پورا  نہیں ہو گا۔ دیوان بہادر ایس۔پی سنگاہ قیام پاکستان کے وقت آخری سپیکر متحدہ پنجاب اسمبلی تھے۔ 3 جون 1947ءکے منصوبہ کے تحت پنجاب اور بنگال کی اسمبلیوں نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ ہند کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ بننا چاھتے ہیں یا پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ۔ 23جون 1947ء کے تاریخ ساز اجلاس میں جب اس مسئلہ پر ووٹنگ کی گئی تو آدھے مبمران نے حمایت کی کہ پنجاب کو انڈیا کا حصہ بننا چاہیئے اور آدھے ممبران نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ ووٹنگ برابر ہونے کی وجہ سے سپیکر کے ووٹ پر فیصلہ ہونا تھا، دیوان بہادر ایس پی سنگاہ نے قائداعظم محمد علی جناح سے کئےہوئےوعدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا ووٹ پاکستان کے حق میں ڈالا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا تھا۔ اور جس بات کو ہم رہتی زندگی یاد رکھیں گے کہ یہ دیوان بہادر ایس۔پی سنگاہ کے کاسٹنگ ووٹ کی بدولت ممکن ہوا کہ پنجاب کے مسلم آباد علاقے پاکستان کا حصہ بنے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، قیام پاکستان کے بعد بھی پاکستان میں بسنے والے مسیحی،  تعلیم، صحت اور دفاعی اداروں میں اپنی خدمات اور قربانیوں سے پاکستانی ہونے کا حق ادا کرتے رہے۔  پاکستانی مسیحیوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی گریز نہیں کیا اور نہ کبھی کریں گے۔
لیکن افسوس پاکستان کی بہت سی حکومتوں نے ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو ہمیشہ نظر انداز ہی کیا۔ ہم حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاھتے ہیں کہ ہمارے قومی تہواروں پر، تحریک پاکستان کے گمنام کرداروں کی خدمات کو بھی یاد رکھا جائے اور اس اقدام سے یقیناً پاکستان بھر میں پیار اور بھائی چارے کی ایک نئی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور ہمیں بھی یہ احساس اور یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ہم اس قوم کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا ہمارے مسلمان بہن بھائی ہیں۔
پاکستان زندآباد 🇵🇰