'' ایک دن والد محترم کے ساتھ''

پاکستان میں ایک ھفتہ چھٹیا‌ں گزارنے کے بعد آج ڈنمارک
پہنچا، ڈنمارک پھنچ بھی گیا تھا اور نہیں بھی۔ کیوں کہ ذہن میں ابھی تک ایک ہی سوچ چل رہی تھی کہ کچھ گھنٹے پہلے  میں پاکستان میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھا 
تھا اور  یہی سوچ رہا تھا کے کچھ گھنٹے پہلےمیں پاکستان میں کیا کر رہا تھا۔ جب میں ڈنمارک پہنچا تو پاکستان میں رات کے دو بج چکے تھے۔ میں نے کال کرنا مناسب نا سمجھا اور ایک بھتیجے کو میسج کر د یا کہ میں خیریت سے یہاں گھر پہنچ چکا ہوں۔ اگلی صبح جب کال کی تو امی ابو دونوں نے گلہ کیا کے میں نے کال کیوں نہیں کی کیونکہ وہ کافی دیر تک انتظار کرتے رہے تھے۔ ایک بار پھر ایک ری مائنڈر ملا کہ ہم جتنے بھی بڑے ہو جائیں ہمارے والدین کی فکر اور پیار میں کمی نہیں آ سکتی۔

کافی عرصے سے جب بھی پاکستان جاؤں تو بہنوں، بھائی  اور ان کے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے اور امی جان تو بچوں میں بیٹھ کر کچھ ٹائم دے دیتی تھیں لیکن میرے والد صاحب ٹی وی پر خبریں یا پھر کسی نا کسی  کتاب کے ساتھ دن گزار دیتے تھے ۔ اس بار پاکستان جانے سے پہلے ہی ارادہ کیا کہ ایک مکمل دن اپنے والد کے ساتھ گزارنا ہے۔

کوئی صبح کے پانچ بجے تھے کہ میری نظر ابو جان کے خالی بیڈ پر پڑی، اٹھنا تو مشکل لگ رہا تھا لیکن اپنی ہی بات کو پورا کرنے کے لیے اٹھا اور ابو کے پاس بیٹھک میں پہنچ گیا، وہ اس وقت بائبل پڑھ رہے تھے، میں خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گیا، جب انھوں نے دعا کر لی تو انہوں نے مجھے گلے لگا کر ماتھے پر بوسا دیا، میں نے پوچھا پانی یا چائے لاؤں تو انھوں نے کہا نہیں تمہاری امی اٹھیں گی تو ان کے ساتھ ہی ناشتہ کروں گا۔

ابو کیونکہ سوشل میڈیا کے صرف نام سے ہی واقف ہیں لیکن اس کے فوائد یا نقصان سے اتنے واقف نہیں۔ لیکن بچوں کے موبائل فون کے استعمال کے سخت خلاف ہیں. ابو کے بہت سے پرانے دوست اور خیر خواہ میرے ساتھ سوشل میڈیا پر رابطے میں ہیں، ابو کو ان سب کا سلام دیا اور ان کی مصروفیات کے بارے میں کچھ اپ ڈیٹس دی. کچھ ہی دیر بعد ابو کوئی 60 سال پرانے اخبارات میرے سامنے لے آئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ سکول اور کالج کے زمانے کی تصاویر دکھائیں۔ پھر کچھ ہی دیر میں امی بھی جاگ کر ہمارے پاس آ گئیں اور ہم تینوں نے بھابی کے ہاتھ کا ناشتہ کیا۔ اس کے بعد ابو جان نے خبریں لگا لی، ہم نے ایک دو ٹاک شوز دیکھے اور موجودہ سیاسی حالات پر کچھ نظر ثانی کی۔ میں نے ابو کو گھر کے قریب ایک پھل کی دکان پر ساتھ جانے کا پوچھا، انہوں نے فوراً ٹی وی بند کیا اورساتھ چل پڑے۔ دکان کے مالک نعیم بھائی ہمیں ساتھ دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور پوچھا کونسا جوس پئیں گے، میں نے ایک گلاس ملک شیک اور ابو نے انار کا جوس پیا۔ وہاں موجود کچھ محلے کے لوگوں کے ساتھ گفت و شنید کے بعد ہم نے چند پھل خریدے اور گھر واپس آ گئے۔

گھر واپس آکر، ابو جان کے ساتھ ان کے پروفیشنل زندگی کے بارے میں کچھ بات چیت ہوئی ۔ جس میں انہوں نے  سیالکوٹ کے ایک دیہات سے لے کر ایک گورنمٹ کالج کے وائس پرنسپل تائعینات ہونے تک کے سفر پر بات چیت کی، اس کے علاوہ انہوں نے اپنی سکول کی سندوں کے علاوہ سپورٹس اور ادبی مقابلوں میں ملے ہوئے تمغےاور اعزازات دیکھائے اور ساتھ ہی ساتھ ہم نے ایک نظر ان کی بے شمار شیلڈز پر ڈالی جن سے قومی اور بین الاقوامی تنطیموں نے مختلف مضامین میں حسن کارکردگی پر انہیں نوازا ہے. ابو جان نے ساتھ ساتھ اپنی جدوجہد میں بہت سے اتار چڑھاؤ کا بھی بتایا لیکن وہ بات ابھی تک ذہن سے نہی ہٹ رہی جب انھوں نے مجھےبتایا کے طالب علمی کے زمانہ میں ان کے پاس نئے جوتے لینے کے لیے پیسے نہی تھے اور وہ سخت سردی میں بھی پھٹے ہوئے جوتے پہن کر کالج جایا کرتے تھے.
دوپہر میں فیملی کے ساتھ لنچ کیا اور بعد میں کچھ مہمانوں کے ساتھ وقت گزارا. ابو سے پوچھا کہ کیا میرے ساتھ ڈنر پر باہر چلیں گے، انہوں نے کہا میں نے ایک روٹی کھانی ہے بیٹا، یہاں سکون سے  سب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں. میں نے پوچھا کیا کھانا پسند کریں گے، ان کی فرمائش پر گھر میں دال اور میٹھے چاول بنوائے۔ ہم نے ایک ساتھ ڈنر کیا اور کچھ دیر بعد پنڈی صدر گئے ابو کو کچھ شاپنگ کروائی اور آئس کریم کھانے کے بعد گھر کا رخ کیا.  ابو نے گھر آتے ہی ٹی وی آن کر دیا، میں نے بھی کچھ دیر ٹی وی دیکھا اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا.

آپ بھی سوچ رہے ہونگے یہ سب گھریلوں باتیں بتانے کا مقصد کیا ہے ، زندگی اتنی مصروف ہو چکی ہے کہ کبھی کبھی ہم ان مصروفیات میں اپنے والدین تک کو بھول جاتے ہیں. میرے جیسے بہت سے اورسیز بھی جب پاکستان جاتےہونگے تو ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ میں اپنے بہن بھائیوں کو مشورہ دینا چاہوں گا کہ جب بھی پاکستان جائیں تو زیادہ سے زیادہ وقت اپنے والدین کو دیں۔ وہ کئی کئی مہینے، سال آپ کا انتظار کرتے ہیں اور ہم ان کو ہی نطر انداز کے دیں تو کہیں نا کہیں انجانے میں بہت بڑی غلطی کر رہے ہوتے ہیں.