ڈنمارک کا کہانی گھر

کل کی بات لگتی ہے جب میں پاکستان سے ڈنمارک شفٹ ہوا، وقت کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی دنیا میں اتنا مگن ہو گیا کہ آج بہت سے لوگ تو مجھے پاکستانی نژاد ڈینش سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ آج بھی میں خود کو دل و جان سے صرف پاکستانی مانتا ہوں کیونکہ پاکستان کا کلچر اور روایات میرے خون کے ہر قطرے میں نظر آتے ہیں اور جب بھی کبھی کسی تقریب میں جاؤں یا ڈینش دوست احباب سے ملوں تو اکثر ان کو پاکستان کے کلچر اور روایات کے بارے میں ضرور آگاہی دیتا ہوں۔

یہ کہنا بلکل غلط نہیں کے دیس کی اہمیت پردیس میں جا کر ہی پتا چلتی ہے. میں اپنے اس دعوے کو بہت سی مثالیں دے کر بھی ثابت کر سکتا ہوں لیکن میرے خیال میں بس اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ مجھ سمیت بہت سے پاکستانیوں کے صرف جسم یہاں ہیں لیکن روح پاکستان میں۔ ہمیشہ سے ایک خواہش رہی ہے جہاں بھی رہوں، اپنے آباؤ اجداد کی طرح اپنے ملک کا نام بلند رکھنےکے لیے ایک منفرد کردار ادا کروں. ذاتی حیثیت میں تو پاکستان میں تعلیم کے بہت سے پروجیکٹس کو سپورٹ کرتا ہوں لیکن ایک خواہش یہ بھی رہی ہے کہ ڈنمارک میں مقیم پاکستانی کمیونیٹی کو بھی کسی نہ کسی طریقے سے سپورٹ کیا جائےلیکن افسوس کہ ڈنمارک میں سوائے ایک دو تنظیموں کے، باقی سب میں چند افراد صرف اپنی ذاتی پروموشن میں لگے ہوئے ہیں اور دور دور تک فلا ح و بہبود سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں اور ان کی جدوجہد سوشل میڈیا پر کچھ تصویروں کو شئیر کرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے آج تک میں کسی ایسی تنظیم کا حصہ نہیں بنا۔

حال ہی میں مجھے ایک ایسی پاکستانی تنظیم کا علم ہوا جو سات سمندر پار اصل معنوں میں یہاں مقیم لوگوں میں پاکستان، پاکستانی زبان اور کلچر کو زندہ رکھنے کی ایک منفرد کوشش کر رہی ہے. جی میں بات کر رہا ہوں،
"کہانی گھر" کی۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر صائقہ راظی اور ان کے شوہر نے23 مارچ 2017ء میں کہانی گھر کی بنیاد ڈنمارک میں رکھی، کہانی گھر میں 3 سال سے لےکر 18 سال کے بچوں تک کو اردو زبان اور پاکستانی کلچر کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے، اور اس وقت کوپنھیگن میں چار مقام پر کلاسز دینے کا اہتمام جاری ہے۔ کہانی گھر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہاں بچوں کو تعلیم دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائقہ اور ان کے شوہر ہر بچے پر اس کی ذہنیت، اہلیت اور قابلیت کے مطابق ان کو اردو سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ میں تو جب ننھے منھے بچوں کی وہ وڈیوز دیکھتا ہوں جن میں کبھی وہ اردو میں کوئی کہانی سنا رہے ہوتے ہیں یا کسی نغمے کی دھن میں کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں تو میرا دل موم سا اور آنکھیں خوشی سے نم ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر صائقہ کے اس سنہری کام کو دیکھتے ہوئے پاکستانی سفارتخانہ اور کچھ ڈینش تنظیمیں ان کو سپورٹ بھی کرتی ہیں. پاکستانی سفارتخانہ کی طرف سے پاکستان ڈے، اقبال ڈے، قائداعظم ڈے اور 14 اگست کو کہانی گھر کے بچوں کو خاص دعوت پر بلایا جاتا ہے اور بچے کبھی ملی نغمے سنا کر یا کوئی ٹیبلو پیش کر کے وہاں موجود ہر ایک شخص کا دل جیت لیتے ہیں.

مستقبل قریب میں ڈاکٹر صائقہ اور ان کے شوہر ، ایک سوسائٹی بنانا چاہتے ہیں، جس کا نام وہ اقبال سوسائٹی رکھنا چاہتے ہیں اور وہاں اردو زبان کا کورس مکمل کرنے کے بعد ڈپلومہ بھی دیا جایا کرے گا. میں تو مستقبل میں ضرور کہانی گھر کو ایک عملی طریقے سے سپورٹ کروں گا تا کہ میں بھی پاکستان کے کلچر کو یہاں زندہ رکھنے میں اپنا حصہ ڈال سکوں اور اس کے ساتھ ساتھ میں ڈنمارک میں مقیم ہر ایک پاکستانی سے اپیل کروں گا کہ آپ کے بچے کہانی گھر جائیں نہ جائیں مگر اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ ڈنمارک میں رہنے والے ھمارے بچےاردو زبان سے واقفیت رکھتے ہوں اور ان میں پاکستان کی ایک جھلک نظر آئےتو آپ سب ڈاکڑ صائقہ کی اس نیک کاوش میں ہر ممکن طریقے سے اپنا حصہ ڈالیں۔