پاکستان، افغانستان، سیاست اور کرکٹ

29 جون،2019 کو پاکستان اور افغانستان نے ورلڈ کپ 2019 کا ایک اہم میچ انگلینڈ کے شہر لیڈز میں کھیلا۔ پاکستان کو ٹاپ فور اور سیمی فائنلز کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے یہ میچ جیتنا بہت ضروری تھا. افغانستان نے پہلے کھیلتے ہوئے227 رنز کا حدف دیا. افغانستان کے کھلاڑی پاکستانی فاسٹ بالرز کی گیندوں کا نشانہ بنتے ہوئے زیادہ دیر پچ پر نہ ٹھہر سکے ۔ جیسے جیسے افغان کرکٹرز کی وکٹیں گر رہی تھیں،  افغان شائقین کو اپنے غصہ پر کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا اور بالآخر افغان شائقین نے تمیز اور اخلاق کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے پاکستانی شائقین پر غیر اخلاقی جملے کسنہ شروع کر دیےیہاں تک کہ بات  ہاتھا پائی پر اتر آئی. دیکھتے ہی دیکھتے سٹیڈیم کے کچھ حصے میدان جنگ بن گئے۔ جبکہ سٹیڈیم میں ان دونوں ٹیموں کے فینز کے علاوہ اور بہت سے لوگ موجود تھے جن پر اس رویے کا ایک منفی اثر پڑا۔

جب پاکستان کی ٹیم نے اپنی اننگز شروع کی تو بدقسمتی سے ہمارے کھلاڑی افغانستان کے سپن بالرز کا سامنا نہیں کر پا رہے تھے اور جب جب ہماری وکٹیں گرتی،  افغان شائقین اپنی جیت کو یقینی بنا کر خوب شور شرابہ کر تے لیکن ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد پاکستان نے افغانستان کو بلآخر  شکست دے ہی دی اور ایک بار پھر سٹیڈیم کے اندر اور باہر بہت سے نا خوشگوار واقعات پیش آئے، جن کے ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا.

اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرکٹ فینز اور تاریخ سے ناواقف کچھ  پاکستانی فینز بھی یہ سوچنے پر مجبور تھے کے یہ دونوں مسلم ممالک کی آپس میں کیا دشمنی ہے کے آج اس طرح کے واقعیات پیش آئے. پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچیز میں میڈیا اور عوام میں ایک سرد جنگ تو ضرور لگتی ہے لیکن اس وقت بھی کبھی اس طرح سٹیڈیم میں ایک دوسرے پر حملے نہیں کئے جاتے، تو افغانی فینز نے یہ ساری حدیں کیوں پار کی؟

ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے کچھ ورقوں پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔  پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کوئی کل کی بات نہیں، 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو ایک آزاد ملک تسلیم نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کو چیلنج کیا۔ آپ سوچ رہے ہونگے آخر کیوں؟ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد اور بلوچستان پاک افغان سرحد کے قریب مقیم بہت سے پختون قبائل نے خودمختارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا لیکن افغان حکومت نے قبائل کے اس فیصلے کو ایک پروپگینڈہ قرار دیا اور 1947ء سے افغانستان کچھ دوسرے پڑوسی ممالک اور چند افغانی انتہاپسند تنظیموں کی مدد سے پاکستان میں امن برباد کرنے کی سرگرمیوں میں کوشاں رہتا ہے اور اسی وجہ سے متعدد بار پاک افغان بارڈر بند کیا جا چکا ہے۔

پاکستان نے بہت بار افغانستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور  لاکھوں افغانی پناہ گزینوں کے لیے بارڈر کے ساتھ ساتھ دل کے دروازے بھی کھولے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو مدد دینے کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی لیکن  افغانستان کی حکومتوں نے کبھی بھی پاکستان کے ان اقدام کو نہیں سراہا، مگر حال ہی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاک- افغان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کو ہر قسم کی مدد کا یقین دلایا ہے. لیکن میرے خیال میں یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغانی باشندے اپنے دلوں میں سے پاکستان کے لئے کڑواہٹ ختم نہیں کر لیتے اور اپنے دلوں کو صاف کر کے  اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے نیک نیتی سے پاکستان کو اپنا دوست نہیں مان لیتے۔ ہم دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں کے مستقبل میں  افغانی کرکٹ شائقین کھیل اور سیاست میں فرک سمجھتے ہوئے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں گے۔
ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کے لیڈز سٹیڈیم میں ان کے اس رویہ سے پاکستان کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن انہوں نے اپنے ملک کی بدنامی ضرور کی ہے۔