پاکستان بمقابلہ انڈیا اور پاکستانی شائقین

کرکٹ کہنے کو تو ایک کھیل یے لیکن اس کھیل میں کچھ میدان ایسے بھی سج جاتے ہیں جن کو میدان جنگ سے مشابہت دینا غلط نہیں ہوگا، عموماً تو میدان جنگ کا مطلب دو ٹیموں میں ایک کانٹے کا مقابلہ ہوتا یے لیکن کرکٹ کی دنیا میں دو ٹیمیں ایسی بھی ہیں، جب وہ کھیلتی ہیں تو سٹیڈیم تو سٹیڈیم، اس سے باہر الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا کی دنیا پر بھی ایک میدان جنگ سج جاتا ہے. جی ہاں میں بات کر رہا ہوں پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ کی.

جب کبھی کسی ٹورنامنٹ یا سیریز میں ان دونوں ٹیموں کا مقابلہ ہونا ہوتا یے تو کرکٹ کے  پاکستانی شائقین یہ امید رکھتے ہیں کے ہمارے کھلاڑی  اسی وقت سے تیاری میں لگ جائیں گے اور اپنی گیم کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ انڈیا کے ساتھ میچ سے پہلے ٹیم میں جگہ بنا سکے اور جب موقع ملے تو انڈیا کے ساتھ میچ میں ایک اچھی پرفارمنس دیں. سب کھلاڑی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی اس ایک اچھی کارکردگی سے وہ عوام میں ہیرو بننے کے ساتھ ساتھ ٹیم میں ایک لمبے عرصہ کے لیے اپنی جگہ بھی بنا سکتے ہیں. لیکن دوسری طرف ان ملکوں کے عوام، بچے، بزرگ، جوان، خواتین، مرد حضرات ہر کسی کو یہ میچ دیکھنے کا انتظار ہوتا ہے اور عوام اس میچ کے ساتھ اپنے احساسات، جزبات کو ایسے جوڑ لیتے ہیں جیسے یہ دونوں ملک جنگ کے میدان میں اترنے جا رہے ہوں اور دونوں طرف کے شائقین کو اپنی ٹیم سے بہت امیدیں لگ جاتی ہیں. ماضی میں ہم یہ بہت بار سن چکے ہیں کے ٹیم کو شکست ہو تو شائقین نے کبھی ٹی وی توڑ کر اور کبھی کسی اور طریقے سے اپنا غصہ نکالا یے.

حال ہی میں 16 جون کو انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں پاکستان اور انڈیا نے ورلڈ کپ کا ایک میچ کھیلا، میں نے اپنے کام سے چھٹی لے کر یہ میچ گھر آرام سے دیکھنے اور اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کا ارادہ کیا اور میچ شروع ہونے سے پہلے ہی دعا کی کے خدایا آج پاکستان جیت جائے. میچ کے شروع ہونے سے پہلے جب پاکستان کے قومی ترانے کی دھن بجائی گئی تو ٹیم کے ساتھ ساتھ قومی ترانہ گایا. پاکستان نے ٹاس جیت کے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا. سٹیڈیم کے اندر اور باہر بیٹھے رنگوں میں سجے پاکستان اور انڈیا دونوں ٹیموں کے فینز کو دیکھ کر میرا خون گھر بیٹھے صوفہ پر ہی گرم ہو رہا تھا.

انڈیا نے بیٹنگ شروع کی تو ان کے اوپنرز کی بیٹنگ دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کے بہت محنت اور ایک اچھی پلاننگ کے ساتھ میدان میں اترے ہیں، کبھی تو لگ رہا تھا کے یہ کہیں صرف مشینوں کے ساتھ پریکٹس تو نہیں کرتے. انڈیا نے دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کو 336 کا حدف دے دیا. مجھے انڈیا کی اننگز سے صرف اتنا یاد ہے کہ جب چوکا یا چھکا لگتا تھا تو عجیب غصہ کی کیفیت چہرے پر اتر آتی تھی اور جب انکا پہلا کھلاڑی آؤٹ ہوا تو دعا کی کہ اب وکٹوں کی لائن لگ جائے لیکن۔۔۔۔۔ بدقسمتی سے سب کچھ میری اور کروڑوں پاکستانی شائقین کی سوچوں اور دعاؤں کے بالکل بر عکس ہوا ۔

جب پاکستان نے بیٹنگ شروع کی تو دل پھر بھی کہہ رہا تھا کے آج پاکستان ہی جیتے گا، لیکن پاکستان کی طرف سے سوائے بابر اعظم اور فخر کے کوئی بھی انڈین بالرز کا ٹھیک سے مقابلہ نہیں کر پایا  اور ہمارے منجھے ہوئے کھلاڑی بھی زیادہ دیر پچ پر نہ ٹھہر سکے. اس میچ کے ہارنے کے بعد پاکستان کی ٹیم کو یہ بھی خطرہ ہے کے ہم ورلڈ کپ کے دوسرے راونڈ تک ہی نا پہنچ سکے اور اس خبر کے آتے ہی پاکستان کے کروڑوں شائقین کے دل ٹوٹ جایئں گے اور ورلڈ کپ میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی.

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہماری ٹیم میں کہاں کمی رہ جاتی ہے؟ کھلاڑیوں کو دیکھا جائے تو سب  ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن پھر بھی سب سے ضروری مقابلوں میں یہ ٹھپ ہو جاتے ہیں اور کیوں یہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زمہ داری کو سمجھنبے میں ناکام ہو جاتے ہیں. میرے خیال میں اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاھیے اور ٹیم کے لیے نئے بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کوچ ڈھونڈنے کی سوچ یا مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دینا چایئے۔ ٹیم کے اندر یا سلیکشن کمیٹی میں اگر سیاست جیسے عناصر ہیں تو ان کو نکلال کر باہر پھینک دیاجائے. اگر ہم نے ان چیزوں پر قابو پا لیا اور کھلاڑیوں نے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری لینا شروع کر دی تو دل کہتا ہے کے وہ دن دور نہیں جب کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی ٹیم ایک بار پھر 1992 کی طرح پاور بن کر اتر سکتی ہے اور انڈیا تو کیا دوسری ٹیموں کے لیے بھی پاکستان کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا۔