شکریہ آئی ایم ایف

پچھلے تقریباً ایک سال سے مختلف نیوز چینلز پر اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی رہنماؤں کو موجودہ حکومت پر تنقید کرتے دیکھ رہا ہوں اور تنقید بھی صرف آئی ایم ایف سے ایک بار پھر قرضہ لیے جانے پر کی جاتی ہے اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ماضی میں اپنی حکومتوں کے ادوار میں لیے گے قرضوں کو بھلا کر موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف قرضہ لینے کو غلط اور حکومت کی ناکامی ثابت کر رہے ہوتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کے تنقید بھی اس سیاسی جماعت کی حکومت پر جو پہلی بار اقتدار میں آئی ہو اور جس کو حکومت سنبھالے صرف چند ماہ گزرے ہو . ان سیاست دانوں کی باتیں سن سن کر کچھ سوال بار بار ذہن میں اٹھتے ہیں، کیا پاکستان نے پہلی بار آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے؟ دنیا کے اور بھی بہت ممالک  فاینینشل کرائسس کو نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں لیکن وہاں کبھی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اتنا شور شرابہ دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا؟ یورپ میں بھی بہت سے ممالک ضرورت پڑنے پر یورپین یونین سے قرضہ لیتے رہتے ہیں لیکن کبھی حکومتوں پر منفی سیاسی پروپگنڈا دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا؟

اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے آئی ایم کی ویب سائٹ دیکھی اور کچھ ہی دیر بعد 1958 سے لے کر 2019 تک لیے جانے والے 22 قرضوں کی فہرست میرے سامنے تھی. میرا مقصد یہ دیکھنا نہیں تھا کے کس حکومت نے کب اور کتنا قرض لیا، میرا مقصد یہ کنفرم کرنا تھا کے اپوزیشن کی جماعتیں کس بنیاد پر موجودہ حکومت کو اتنی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں جب ان کی اپنی ایک بھی حکومت آئی ایم سے قرضہ لیے بنا نہ چلی ہو اور یہ سیاست دان کیسے اتنی دلیری سے موجودہ حکومت پر تنقید کر کے عوام کو بے وقوُف بنا رہے ہوتے ہیں.

کچھ تحقیق کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اپوزیشن جماعتوں کو بہت اچھے طریقے سے یہ علم ہوتا ہے کہ ملک ایک فاینینشل کرائسس سے گزر رہا ہے اور آئی ایم ایف سے قرضہ لئے بغیر ملک کو چلانا مشکل ہی نہیں نا ممکن سا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی سیاست چمکانے اور حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اس حساس ایشو کو استمعال کرتے ہیں اور حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے سے باز نہیں آتے.میری نظر میں زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کے اپوزیشن کی جماعتیں یہ نہیں سوچتیں کے ان کے اس طرح کے رویہ سے ہمارے ملک کی دنیا کے سامنے تذلیل ہو رہی ہوتی ہے جب پوری دنیا میں لوگوں کو پاکستان سے آئی ایم ایف سے قرضہ کے علاوہ کچھ اور سننے کو نہیں ملتا.

کاش! ھمارے سیاستدان ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور مغربی ممالک سے کچھ سیکھتے ہوئے مشکل وقت میں اپنے ملک کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا سیکھیں اور حساس ایشوز پر منفی سیاست کرنا بند کریں کے اور یہ تاثر دینا بھی بند کریں کہ آئی ایم ایف پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے بلکہ  کہیں کہ "شکریہ آئی ایم ایف" کہ آپ نے ایک بار پھر پاکستان کو مشکل حالات میں اکیلا نہیں چھوڑا اور اگر یہ کھنا بہت مشکل یے تو نیک نیتی سے موجودہ حکومت کی مدد کرے تاکہ وہ دن جلد آئے جب ہمیں آئی ایم سے قرضہ لینے کے ضرورت ہی نہ پڑے.