ایسٹر ۲۰۱۹ اور سانحہِ سری لنکا
تحریر-نواز سلامت

مسیحیوں کے ایمان کے مُطابق یسوع المسیح جنہیں مُسلمان بھائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے نام سے پکارتے ہیں، صلیب پر اپنی جان کی قربانی دینے کے تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔ اُس عظیم دن کی یادگار کو پوری دنیا کے مسیحی ایسٹر یا عید قیامت المسیح کے نام سے جانتے اور مناتے ہیں، مسیحی لوگ اِس تہوار کو مذہبی جوش و جذبہ سے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مناتے ہیں۔ بچے بوڑھے، مرد وخواتین سب ہی کرسمس کی طرح ایسٹر پر بھی نئے نئے ملبوسات بنواتے اور خریدتے ہیں، گھر کی خواتین طرح طرح کے کھانے بناتی ہیں۔ اُس روز عبادت سے فارغ ہوکر اکثر فیملیز کھانا کھانے کے بعد سیر و تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں. جنوبی ایشیا کے بہت سے ممالک میں مُسلمان اور مسیحی ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں ہمیشہ شریک ہوتے ہیں، کرسمس اور ایسٹر کے مواقعوں پر مسیحی اپنے رشتے داروں کے ساتھ ساتھ قریبی مُسلم دوستوں اور پڑوسیوں کو یاد رکھتے ہوئےکیک بھیجتے ہیں اور عید کے موقعہ پر مسُلم بہن بھائی بھی کچھ میٹھا یا ان کی روایت کے مطابق کچھ نا کچھ ضرور اپنے مسیحی دوستوں اور پڑوسیوں کے گھروں میں بھیجتے ہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے پڑوسی جو کہ پٹھان تھے ان کے بچوں کو ہمارے کیک کا انتظار ہوا کرتا تھا اور ہمیں عید پر حلوے یا مٹھائی کا انتظار ہوتا تھا۔
اس سال بھی ہمیشہ کی طرح پوری دنیا میں مسیحی لوگ ایسٹر ڈے پر تیاریوں میں مصروف تھے اور اپنے اپنے وقت کے مطابق ناشتے کے بعد نئے نئے کپڑے پہن کر ایسٹر کی عبادات میں شرکت کے لیے گرجا گھروں کا رخ کر رہے تھے ۔ بچوں کو گرجا گھر جانے کا بڑوں سے بھی زیادہ انتظار ہوتا ہے تا کہ وہ اپنے نئے کپڑے دوسرے لوگوں کو دکھا سکیں. ہم ہمیشہ سے سُنتے آئے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے اس بات کو سچ ہوتا عید کے دن ہی آپ اپنی انکھوں سے دیکھ سکتے ہیں. لیکن کس کو عِلم تھا کہ چند لمحوں میں یہ خوشی کا دن دنیا کے ایک امن پسند ملک سری لنکا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سوگوار ترین دن بن جائے گا اور صرف سری لنکا نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کی عید کی خوشیاں غموں میں تبدیل ہو جائیں گی . جی میں بات کر رہا ہوں اُن خُودکُش دھماکوں کی جو سری لنکا میں ایسٹر کے دن کیے گئے جن کے نتیجہ میں سینکڑوں معصوم لوگ شہید ہوے، یہ سوچ کر دل ہل جاتا ہے کے درجنوں کمسن بچوں کے رنگ برنگے لباس کچھ ہی گھنٹوں میں سفید کفن میں تبدیل ہو چکے تھے، خُدا جانے کتنے بچے یتیم ہو گئے ، کتنے گھروں کے چراغ بجھ گئے. میں نے جب یہ خبر سنی تو چند لمحوں کے لیے تو سکتہ میں چلا گیا کیوںکہ میں اپنوں کو کھونے کے غم سے بہت اچھی طرح سے واقف ہوں۔
پوری دنیا میں مسیحی اور مُسلمان دونوں سری لنکا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دعائیہ تقاریب میں شرکت کر رہے ہیں لیکن جب بھی اس سانحہ سے متعلق خبر سُننے اور تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں تو ذخم پھر تازہ ہو جاتا ہے اور ذہن یک دم سے اُن فیملیز کی طرف چلا جاتا ہے جن کے گھروں میں ایسڑ کے دن ماتم کا سماں ہو گا اور وہ دکھ سے نڈھال ہونے کے باوجود اپنے عزیزوں کے جنازوں کے بندوبست کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ھونگے۔
سُننے میں آیا ہے کے دہشت گردوں کی ایک تنظیم نے اِس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اِسے نیوزی لینڈ کے واقعہ کا جواب کہا ہے، یہ وہ ہی تنظیم جو اپنے آپ کو مُسلمان کہتے ہیں اور ایسی دہشت گردی اور قاتلانہ حملوں کو جہاد سمجھتے ہیں، میں تو ان کو انسان کیا جانور سے بھی تشبیہ دیتے ہوئے جانوروں کی تذلیل سمجھتا ہوں، یہ انسان ہوتے تو نیوزی لینڈ کے واقعہ کے بعد جس طرح کا رویہ وہاں کی وزیر اعظم اور عوام نے دکھایا ، اُس کو یاد رکھتے ہوئے ایسا کبھی نہ کرتے. میں ان دہشت گردوں کو للکار کر ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ جاؤ ہم نہیں مانتے تُم جیسےبُزدل دہشت گردوں کے اسلام کو، ہم مانتے ہیں اُس اسلام کو جو ہمارے وہ مُسلمان دوست مانتے ہیں جو ہمارے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں. میں آخر میں اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں کا مشکور ہوں جو سری لنکا کے مسیحیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے اور خُدا کرے کہ ہم سب اپنے مذاہب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانیت کے درس کو بھی اپنے دل و دماغ میں یاد رکھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں. یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں تاکہ امن ، بھائی چارہ اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئےاِن دہشت گردوں کو شکست دے سکیں۔