ڈنمارک، تارکینِ وطن اور ان کی سیاست:
تحریر. نواز سلامت

یورپ کے نقشہ کو اگر آپ کافی غور سے دیکھیں تو آپ کو ڈنمارک کے نام سے ایک چھوٹا سا ملک نظر آئے گا. جس کے پڑوسی ممالک میں سویڈن، ناروے، جرمنی اور انگلینڈ جیسے بڑے بڑے ملک آپ کو دیکھنے کو ملیں گے. ڈنمارک رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے تو دنیا کے چھوٹے ترین ملکوں میں گنا جاتا ہے لیکن وہ ممالک جہاں جمہوریت کا پرچار کیا جاتا ہے وہ ڈنمارک کو دنیا میں بہترین جمہوری نظام حکومت رکھنے کی وجہ سے جانتے ہیں . وقت کے ساتھ ساتھ ڈنمادک کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے، جس کی کچھ وجوہات بہت مثبت ہیں اور کچھ بہت منفی. مغرب میں ڈنمارک کی مقبولیت کبھی ایچ سی اینڈرسن کی کہانیاں، کبھی فری صحت اور تعلیم کا نظام اور کبھی دنیا کی سب سے خوش عوام  The most happy country ہونے کا اعزاز رکھنا بنتا ہے لیکن بد قسمتی سے مُسلم دنیا میں ڈنمارک اسلام دشمن کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کی وجہ پہلے عراق، افغانستان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا پھر توہین آمیز خاکے، ایک ڈینش وکیل کا قران مجید جیسی پاک کتاب کو بار بار جلانا ہے، غیر ملکیوں کے لیے سخت ترین ویزا پالیسی اور وہ مجرم جو ڈینش نہیں ہیں اُن کو ملک بدر کرنے جیسے قوانین ہیں۔

ڈنمارک میں تقریباً 3 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جن کا تعلق ترکی، پاکستان، صومالیہ، افغانستان اور بہت سے دوسرے اسلامی ممالک سے ہے. مُسلمان اور دوسرے غیر ملکی یہاں ایک خوشحال زندگی گزارتے ہیں اور امن پسند شہری ہیں لیکن جب کچھ احمق لوگ جن کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا وہ اپنی اسلام مخلاف حرکتوں کی وجہ سے یہاں بسنے والے مُسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں تو دو قسم کا دد عمل دیکھنے کو ملتا ہے. پہلا یہ کے ایک بڑی تعداد پر امن طریقے سےاپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی ہے جو ایک پر امن ریلی نکالنا یا یہاں کی حکومت کو تحریری طور پر اپنی تحفظات سے آگاہ کرنا ہو سکتا ہے. دوسری طرف کچھ لوگ جن میں نوجوان نسل کی اکثریت ہوتی ہے وہ اپنے غصے کا اظہار روڈ بند کر کے، لوگوں کی گاڑیاں جلا کر، کچھ دکانوں کو نقصان پہنچا کر کرتے ہیں، میں دونوں قسم کے ردعمل کو غلط اور ٹھیک ثابت کر سکتا ہوں لیکن میں یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے کونسا طریقہ اپنانا ٹھیک ہے اور کونسا غلط. میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کے حضور پاک ﷺ نے اپنی جان کے دشمنوں اور کوڑا پھینکنے والی عورت کو معاف کر دیا تھا اور اسلام میں معاف کرنے کی سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔

اسلام مخلاف پراپیگنڈا میں اضافہ اور غیر ملکیوں کے لیے سخت سے سخت قوانین پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے  غیر ملکیوں نے یہاں کی سیاست میں حصہ لے کر یہاں کے ایوانوں میں اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن چند ڈینش نژاد غیر ملکی ایسے بھی ہیں جنہوں نے صرف اور صرف اپنے ملک ڈنمارک اور بلا تفریق تمام شہریوں کے حقوق کے لیے تعمیری سیاست کے راستے کو اپنایا ہے. آنے والے الیکشن پاکستان کمیونٹی سے بھی چند لوگ سیاست کے میدان میں اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے اُتر رہے ہیں. میں جب سے یہاں مقیم ہوں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے ڈنمارک کی سیاست میں راستے ہموار کرنے کے لیے لوگ ھیر پھیر کرتے ھونگے یا ایسی سوچ بھی رکھتے ہونگے لیکن جب سے میں نے کچھ پاکستانی اُمیدواروں اور اُن کی پھرتیوں کے بارے میں سنا ہے میں تو دنگ سا رہ گیا ہوں. الیکشن میں سب سے پہلے تو یہ کوششیں کرنا کہ دوسرا اُمیدوار بیٹھ جائے اور میں پاکستانی کمیونیٹی کے سارے ووٹ حاصل کر سکوں اور دوسری طرف پارٹی کی ترجیحی لسٹ میں اپنا نام اوپر لانے کے لیے پہلے اپنے جیب سے ممبر شپ فیس دے کر اور کچھ میٹھی میٹھی باتیں سنا کر اپنے دوستوں، عزیزوں اور ہم وطنوں کو ممبر بنانا اور پھر ان کو پارٹی کے اُس اجلاس میں  لے کر جانا جس میں ووٹنگ کے ذریعے ترجیحی لسٹ بنائی جانی ہوتی ہے. یہ کرپشن، دھاندلی اور اپنے سے زیادہ ذہین اور حقدار امیدواروں کے حق پر سیدھا سیدھا ڈاکہ ہے. میں نے یہ چیز صرف غیر ملکی امیدواروں کو کرتے دیکھا ہے اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کو ئی بھی ڈینش اپنے ذاتی مفاد کے لیے اپنے عزیزوں اور ان کی نام نہاد اور وقتی ممبرشپ کروانے جیسا قدم نہیں اُٹھاتا ہو گا۔

میں غیر ملکی امیدواوں سے صرف یہ کہوں گا کے اگر آپ نے سیاست میں قدم عوام کی خدمت کے لیے رکھا ہے تو برائے مہربانی اوچھے ہتھکنڈے استمعال نہ کریں اور وہ لوگ جو ایسے اُمیدواروں کو کسی بھی وجہ سے سپورٹ کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ خُدا کا خوف کریں اور دوسرے اُمیدواروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے میں مددگار نا بنیں. اگر وہ یہ سب اس لیے کرتے ہیں کے کوئی دیکھ نہیں رہا تو وہ کسی غلط فہمی میں  مبتلا ہیں اور  اتنا یاد رکھیں کہ خُدا تو دیکھ رہا ہے. پاکستانی کمیونٹی کے بزرگوں کو بھی چاہیے کہ نوجوان نسل کو ذات پات، قومیت جیسی سیاست کو سپورٹ کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ اُن کو اِس سے باہر نکلنے میں مدد کریں اور  اِن کی راہنائی فرمائیں کہ اِن کے ووٹ کا اصل حقدار کون ہے، یہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم ایسا نمائندہ چُن سکتے ہیں جو حکومت تک ہمارے تحفظات نیک نیتی سے پہنچا سکتا ہے اور اس کا پاکستانی یا مُسلمان ہونا لازمی نہیں ہے. کچھ سیاسی جماعتیں اور اُن کے اُمیدوار در حقیقت بہت ایمانداری سے ہمارے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں تو ان کو بھی سپورٹ کرنا ہمارا ہی فرض ہے۔