اقلیتوں کے نام نہاد نمائندے
یہ کل ہی کی بات لگتی ہے جب پرویز مشرف نےمذہبی اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی نیت سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستوں پر الیکشن کی بجائے سلیکشن جیسے غیر جمہوری نظام کو متعارف کروایا تھا. کچھ عرصہ پہلے مجھے یورپین پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، یہ اجلاس پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور مذھبی آزادی سے متعلق تھا، جب میں کچھ مسائل پر بات کر ہی رہا تھا تو ایک گورے نے مجھے روک دیا اور کہا ہم اِن مسائل پر آپ کے نمائندوں سے اسلام آباد میں بات کر چکے ہیں، میں نے اُس سے کہا کے کیا آپ کے علم میں ہے؟ کے مسیحیوں کی اکثریت ، پارلیمنٹ میں بیٹھے مسیحی ارکان کو اپنا نمائندہ تصور نہیں کرتے، اُس نے فوراً مجھے کہا یہ کیسے ھو سکتا ھے؟، وہ لوگ آپ کے ووٹوں کی وجہ سے پارلیمنٹ تک پہنچے ہیں اور آپ کہہ رھے ہو یہ ھمارے نمائندے نہیں، میں نے اِس مسلئہ پر روشنی ڈالنے کے لیے 15 منٹ اور مانگے جو مجھے انہوں نے خوشی سے دے دیے. جب میں نے ان کو اقلیتوں کی نشستوں پر الیکشن کی بجائے سلیکشن والے نظام کے بارے بتایا تو اُن کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں جیسے میں جھوٹ بول رہا ہوں، میں نے ساتھ ہی اُن کو میرے ایک ایک لفظ کو اُن ارکان سے تصدیق کرنے کا کہا، اس کے بعد وہاں موجود یورپین پارلیمنٹ کے لوگوں نے یقین دلایا کے وہ بھی پاکستان حکومت سے اس مسلئہ پر بات کریں گے. آپ یہ سُن کر اور بھی حیران ہونگے کہ آج بھی بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جو اس بات سے بلکل لا علم ہیں کہ اقلیتو‍ں کے نام نہاد نمائندے بنا الیکش اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اس لا علمی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مجھے بہت بار یہ سوال کیا گیا ہے کے آپ نے اپنے کس بندے کو ووٹ دیا تھا؟
آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال آٹھ رہے ھونگے کے یہ سلیکشن ہے کیا چیز؟ اور اس پر عمل کیسے کیا جاتا ہے؟ اور کن لوگوں کو اس قابل سمجھا جاتا ہے کے وہ اسمبلی میں بیٹھ کر اپنی قوم کی نمائندگی کریں؟. بات لمبی کرنے کی بجائے میں چند جملوں میں یہ تمام ماجرہ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں، سلیکشن کے عمل میں مختلف سیاسی پارٹیاں اپنے مسیحی کارکنوں اور وفاداروں کی ایک ترجیحی لسٹ بنا کر الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیتی ہیں اور پھر اسمبلیوں میں ان پارٹیوں کی حاصل کردہ سیٹوں کے تناسب سے اقلیتوں کی 10 سیٹوں کی خانہ پوری کر دی جاتی ہے، مثلاً قومی اسمبلی میں جس پارٹی کے پاس 27 نشستیں ہوں وہ ایک غیر مسلم سیٹ تحفہ کے طور پر حاصل کر لیتی ہے اور یہ ہی نظام صوبائی اسمبلیوں میں ہے۔
سیاسی کارناموں کی بات کسی اور دن سہی لیکن جب سے یہ نظام آیا ہے مسیحی قوم کے صرف تین ارکان کو اپنی کمیونیٹی میں ایک طبقے نے جاننا شروع کیا تھا یا کچھ پذیرائی ملی شہباز بھٹی جن کو ان کی شہادت کے بعد، پال بھٹی کو اس کے بھائی کی حثیت سے اور رمشاہ مسیح کے کیس کی وجہ سے اور کامران مائیکل کو مختلف ایشوز پر میڈیا کی زینت بننے کی وجہ سے، باقی لوگوں کو نہ ان کی پارٹی میں کوئی وقعت حاصل ہے اور نہ ہی پارٹی سے باہر اور ذیادہ تر کے تو ناموں سے بھی لوگ واقف نہیں ہیں. ان سب میں ایک بات ملتی جلتی ضرور ہے کے ان سب کو پارٹیوں نے کچھ سیاسی مقاصد کے لیے صرف ایک موہرے کے طور پر رکھا ہوتا ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں ان کو استمعال کر لیا جاتا ہے۔
مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی ڈر خوف نہیں کہ جب سے یہ سلیکش کا عمل آیا ہے، پی ٹی آئی وہ سیاسی پارٹی ہے جس نے سلیکشن کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اور ایسے لوگوں کو قومی اور دوسری اسمبلیوں میں بٹھا دیا ہے جن کو قانون سازی کی ا ب پ بھی نہیں آتی. کچھ کبھی جبری مذھب جیسے حساس ایشو پر پر میٹنگ رکھ لیتے ہیں اور سیاسی اور سماجی لوگوں کو چائے پانی پلا کر اپنی واہ واہ کروا رہے اور کچھ اسمبلیوں میں سیلفیاں بنانے اور کچھ اسمبلی کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں اور کچھ خاموشی کا روزہ رکھ کر اپنا وقت پاس کر رہے ھیں۔
کوئی ان کو کیسے بتائے کے مسیحی کمیونیٹی کے بہت سے مسائل کا حل صرف ھمارے بچوں اور نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مستقبل کے مواقع فراھم کرنا ہے. در حقیقت یہ باتیں اُن سب ارکان کو بھی پتہ ھوتی ہیں لیکن جس سسٹم کے ذریعہ سے وہ پارلیمنٹ میں آئے ہیں، اس سسٹم نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، آنکھیں بند کر دی ہیں اور زبان کو کاٹ دیا ہے اور میری یہ تمام باتیں غلط ثابت ہو سکتی تھیں اگر یہ لوگ ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے، ان کی وہاں عزت بھی ہوتی اور شنوائی بھی ہوتی۔
یہ نام نہاد نمائندے تو اپنی کرسیاں بچانے کے لیے اپنے پاؤں پر کلھاڑا نہیں ماریں گے اور کھبی بھی سلیکشن کے خلاف بل نہیں لائیں گے، الیکشن کمیشن کو کیونکہ قومی اسمبلی کی10 سیٹوں اور صوبائی اسمبلیوں کی کم از کم 23 نشستوں پر الیکشن کروانے کے لیے محنت نہیں کرنا پڑتی تو وہ اس لیے اس سسٹم کی تبدیلی کے بارے میں سنجیدگی نہیں دکھاتے تو میں ایک بار پھر سپریم کورٹ آف پاکستان اور حکومتِ وقت سے اپیل کروں گا کہ وہ اس سلیکشن جیسے غیر جمہوری سسٹم کو ختم کرے اور ھمیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ بیلٹ یعنی اپنے ووٹ کے ذریعہ سے اپنے نمائندے چُننے کا حق دے۔