میری کہانی میری زبانی
تحریر-نواز سلامت

میری عمر تو 38 برس ھے لیکن میری کہانی میری پیدائش سے 8 سال قبل 30 اگست 1972 کو شروع ھو چکی تھی اور میرا نام بھی رکھا جا چکا تھا، آپ سوچ رھے ھونگے کے یہ کیسے ھو سکتا ھے، اس راز کو جاننے کے لیے آپ کو میرے ساتھ تاریخ کے اُن اوراق پر نظر دوڑانا پڑے گی، جن کے بارے کچھ لوگوں نے جانتے ھوئے بھی آج تک لا علمی کا اظہار کیا اور دوسری طرف فقط ایک شخص ایسا ھے جس نے اُس تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے ایک بہت انوکھا انداز اپنایا ھوا ھے. میں بات کر رھا ھوں،ممتاز مسیحی تاریخ دان پروفیسر سلامتؔ اخترؔ کی، جنہیں لوگ مجاھد اول، بابائے مسیحی قوم کے القاب سے بھی جانتے ھیں.
2 جنوری 1972 کو پاکستان میں اُس وقت کی حکومت نے پاکستان میں پرائیوٹ سکولز، کالجز، ہسپتالوں، فیکٹریوں اور بہت سے اداروں کو اپنی تحویل میں لے کر نیشنلائز کرنا شروع کر دیا تھا، اس فیصلے کی وجہ سے سینکڑوں مسیحی ادارے مسیحیوں سے چھین لیے گئےاوراَن کے نام بدل کر ان کے ساتھ (سرکاری) لکھا جانے لگا. بھٹو حکومت کے اُس فیصلے کو درست کہا جائے یا غلط اِس کا جواب آپ کو مشنری اداروں کے پرُانے طالبعلم دے سکتے ھیں یا تب اور آج ان اداروں کا تعلیمی معیار دے سکتا ھے. اُس وقت کی نیشنلائزایشن کا ایک دوسرا تاریک پہلو یہ تھا کے مسیحیوں کو اپنے ھی اداروں میں بیگانوں جیسا سمجھا جانے لگا حتیٰ کہ کثیر تعداد کو اپنی نوکریوں سے بھی ھاتھ دھونے پڑے. بھٹو حکومت کی مسیحیوں کے ساتھ اِس زدیاتی کی وجہ مسیحی قوم میں غم و غُصہ جیسی کیفیت پائی جاتی تھی. راولپنڈی کے غیور مسیحیوں نے پروفیسر سلامت اختر اور بہت سے دوسرے مذھبی اور سیاسی رہنماؤں کی قیادت میں 30 اگست 1972 کو ایک پُر اَمن احتجاج کرنے کا پروگرام بنایا. اپنے رہنماؤں کی کال پر اُس وقت کے غیور مسیحی ہزاروں کی تعداد میں مری روڈ پر آن پہنچے اور ھر طرف یہ آواز گونج رھی تھی کے ہمیں ہمارے ادارے واپس کیے جائیں. اُس احتجاج کے نتیجہ میں اُس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے پروفیسر سلامت اختر کو مذکرات کے لیے بلایا اور خاموشی اختیار کرنے کی تلقین کی اور اَس کے عوض پروفیسر سلامت کو کچھ ذاتی مفاد دینے کے وعدے کیے. پروفیسر سلامت نے بھٹو صاحب کی تمام باتیں سنُیں اور کہا کہ آپ کا شکریہ لیکن مجھے میری ذات کے لیے کچھ نہیں چاھیے اور آپ سے فقط یہی درخواست ھے کے ہمارے ادارے ہمیں واپس کیے جائیں. پروفیسر صاحب کی یہ باتیں ذوالفقار علی بھٹو کو ناگوار گزری اور کچھ ہی دیر بعد مسیحیوں کے پرُ امن احتجاج پر گولی چلانے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا. ہزاروں بے قصور، معصوم لوگ زخمی ہوئے، درجنوں کو گرفتار کیا گیا اور راولپنڈی کے دو بہادر سپوت آر ایم جیمز اور نواز مسیح نے جائز حقوق کا مطابہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا. اگلے دن کے اخبار میں ھمیشہ کی طرح، حلالات کو معمول پر لانے کے لیےحکومت کی طرف سے وعدے کیے گئے اور دوسری طرف مسیحی رہنماؤں کو ڈرایا دھمکایا گیا. پروفیسر سلامت اختر کو بھی گرفتار کیا گیا اور اِن کی فیملی پر طرح طرح کے ظلم کیے گے جسیے، بجلی کاٹ دینا، تنخواہ بند کر دینا اوررہائش سے دُور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا جاتا رہنا شامل ہے. 1972 میں پروفیسر صاحب نے خدا سے وعدہ کیا کہ اگر خدا نے انہیں دو بیٹے عطا کیے تو وہ ان کے نام اُس وقت کے شھیدؤں کے نام پر رکھیں گے. خُدا نے ان کو دو نہیں بلکہ تین بیٹوں سے نوازا اور آج بڑے دو بیٹے جیمزؔ اور نوازؔ کے نام سے پکارے اور جانے جاتے ھیں. وقت گزرتا گیا اور پروفیسر صاحب اداروں کی نیشلائزیشن کے خلاف پُر امن طریقے سے ہر ممکن پلیٹ فارم پر بات کرتے رھے. جب میں نے اپنی کالج کی تعلیم مکمل کی تو یہ نوٹ کیا کے ہمارے والد کے پرُانے دوست آھستہ آھستہ ساتھ چھوڑ گئے ھیں اور وہ کچھ اکیلا اکیلا محسوس کرتے ھیں میرے دوسرے بھائی سیاست سے تو مکمل دور ہیں لیکن سماجی کاموں میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھتے تھے لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کے میں اپنے والد کی سماجی اور سیاسی جدوجہد میں ان کی مدد کیا کروں گا، ان کے ساتھ مختلف تقریبات میں شرکت اور کبھی ان کے مضمون ٹائپ کرنا عادت بنتا جا رھا تھا. یوں سمجھ لیں کے اُسی وقت سے میری تربیت شروع ھوئی تھی، دوسرے بھائی بھی جہاں اُن کی مدد کی ضرورت پڑتی وہ بھی ہمارے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے ضرور ھوتے. آج جب پرفیسر صاحب عمر کے اُس حصہ میں ھیں کہ وہ اِنسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اُس طرح کام نہیں کر پاتے جیسے وہ کرنا چاھتے ھیں تو میں نے اپنے والد کے اِس مشن کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ھے. میں اُن سے ہزاروں کلومیڑ دور ضرور ھوں لیکن میں ہر ممکن طریقے سے ان کے مشن کو آگے لے کر جانے کی کوشش کرتا ھوں. پروفیسر سلامتؔ صاحب کا اپنی کمیونیٹی اور پاکستان کے ساتھ محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کے مسئلہ ھو جبری مذھب کے تبدیلی کا یا بھارت کی دھمکیوں کا تو مجھے فون آتا ھے کے ھم نے کیا کرنا ھے، بھارت کو جواب دو. اُن کی یہ باتیں میرے خون میں رچ بس چکی ھیں اور نواز سلامت اپنی کمیونیٹی کے حقوق اور پاکستان کی سلامتی کی بات سب سے پہلے کرنے کرنے کہ حوالہ آج جانا اور پہچانا جانے لگا ھے.
ہم پاکستان سے پیار کرنے والے لوگ ھیں اور اپنے اس ملک کے لیے ہم نے بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بہت قربانیاں دی ھیں  اور مُلکی ترقی میں ہمیشہ حصہ ڈالا ہے پس حکومتیں ھمارے ساتھ سوتیلی ماؤں جیسا سلوک مت کیا کریں. آخر میں اِس وقت کی حکومت سے اپیل کرتا ھوں کہ مسیحیوں کے ادارے انہیں واپس کرنے پر کچھ سنجیدگی دکھائے.